حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 459
459 یہ ایک مسلم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔جیسے کتاب کے جب کل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنے ہیں۔کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آ کر اس کا ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 35) خاتمہ ہو گیا۔مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنِ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ( الاخراب : 41) اس ( خاتم النبین ) کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی صاحب شریعت نہیں آوے گا اور یہ کہ کوئی ایسا نبی آپ کے بعد نہیں آ سکتا جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر اپنے ساتھ نہ رکھتا ہو۔۔۔رئیس المتصو فین حضرت ابن عربی کہتے ہیں کہ نبوت کا بند ہو جانا اور اسلام کا مر جانا ایک ہی بات ہے۔دیکھو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں تو عورتوں کو بھی الہام ہوتا تھا چنانچہ خود موسیٰ کی ماں سے بھی خدا تعالیٰ نے کلام کیا ہے۔وہ دین ہی کیا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اس کے برکات اور فیوض آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئے ہیں۔اگر اب بھی خدا اسی طرح سنتا ہے جس طرح پہلے زمانہ میں سنتا تھا اور اسی طرح سے دیکھتا ہے جس طرح پہلے دیکھتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ جب پہلے زمانہ میں سنے اور دیکھنے کی طرح صفت تنظم بھی موجود تھی تو اب کیوں مفقود ہوگئی۔اگر ایسا ہی ہے تو کیا اندیشہ نہیں کر کسی وقت خدا تعالیٰ کی صفت سنے اور دیکھنے کی بھی معزول ہو جاوے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 566-565) یادر ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخری کتاب اور آخری شریعت قرآن ہے اور بعد اس کے قیامت تک ان معنوں سے کوئی نبی نہیں ہے جو صاحب شریعت ہو یا بلا واسطہ متابعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وحی پا سکتا ہو بلکہ قیامت تک یہ دروازہ بند ہے اور متابعت نبوی سے نعمت وحی حاصل کرنے کے لئے قیامت تک دروازے کھلے ہیں وہ وحی جو اتباع کا نتیجہ ہے کبھی منقطع نہیں ہوگی مگر نبوت شریعت والی یا نبوت مستقلہ منقطع ہو چکی ہے۔ولا سبيل اليها الى يوم القيامة و من قال انى لست من امة محمد صلى الله عليه وسلم و ادعی انه نبى صاحب الشريعة او من دون الشريعة و ليس من الامة فمثله كمثل رجل غمره السيل المنهمر فالقاه وراءه ولم يغا درحتى مات۔۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی-ر خ- جلد 19 صفحہ 214-213) إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ۔(الكوثر:2تا 4) یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا۔اِنَّا اَعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ یہ اس وقت کی بات ہے کہ ایک کافر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں۔معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔