حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 458
458 اللہ ظاہر ہونگے بالضرورت اس پر مطابق آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِہ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس پر جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنافی الرسول کی حالت کے جو آسمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے۔وَ مَنِ ادَّعى فَقَدْ كَفَرَ۔اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خاتم النبیین کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پر دہ مغائرت کا باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہو گا جو خاتم النبین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبین میں ایسا گم ہو کہ باعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہوا اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائیگا کیونکہ وہ محمد ہے گو ظلی طور پر۔( مجموعہ اشتہارات جلد 3 صفحہ 434-433) معانی ختم نبوت مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا اَحَدٍ مِنْ رَجَالِكُمْ وَ لَكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔۔۔۔الآخر۔(الاحزاب: 41) آیت خاتم النبین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتفریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرئیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت کے لانے سے منع کیا گیا ہے۔یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر گز نہیں آ سکتا۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 414) یہ بات مستلزم محال ہے کہ خاتم النبین کے بعد پھر جبرئیل علیہ السلام کی وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمد ورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ کو مضمون میں قرآن شریف سے تو ار درکھتی ہو پیدا ہو جائے اور جو امر مستلزم محال ہو وہ محال ہوتا ہے۔فتدبر (ازالہ اوہام - ر - خ - جلد 3 صفحہ 414) قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے اور باب نزول جبرائیل به پیرایہ وحی رسالت مسدود ہے اور یہ بات خود ممتنع ہے کہ دنیا میں رسول تو آوے مگر سلسلہ وحی رسالت نہ ہو۔(ازالہ اوہام۔رخ۔جلد 3 صفحہ 511) الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ۔۔۔۔۔الاخر۔(المائده: 4) ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبیین کے بڑے معنے یہی ہیں کہ نبوت کے امور کو آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کیا۔یہ موٹے اور ظاہر معنی ہیں دوسرے یہ معنے ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا۔اور نبوت ختم ہو گئی اس لیے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة: 4) کا مصداق اسلام ہو گیا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 189)