حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 434
434 علوم حکمیہ کے اعتبار سے الر تِلْكَ ايْتُ الْكِتَبِ الْحَكِيمِ۔(يونس:2) یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں کہ جو جامع علوم حکمیہ ہے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 243 حاشیہ نمبر 11) قرآن حکیم ہے یعنی حکمت سے بھر ہوا ہے۔کرامات الصادقین۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 52) إِنَّ فِي هَذَا لَبَلْغَاً لِّقَوْمٍ عَبِدِيْنَ۔(الانبياء:107) اس میں ان لوگوں کے لئے جو پرستار ہیں حقیقی پرستش کی تعلیم ہے۔(ازالہ اوہام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 454) يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوْتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَ مَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ۔(البقرة: 270) قرآن شریف کو خدا تعالیٰ نے خیر کہا ہے چنانچہ فرمایا وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أَوْتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ( ملفوظات جلد اول صفحہ 530) پس قرآن شریف معارف اور علوم کے مال کا خزانہ ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآنی معارف اور علوم کا نام بھی مال رکھا ہے۔دنیا کی برکتیں بھی اسی کے ساتھ آتی ہیں۔یعنی جس کو خدا تعالیٰ چاہتا ہے حکمت عطا فرماتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی۔حکمت سے مراد علم عظمت ذات وصفات باری ہے اور خیر کثیر سے مراد اسلام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُوْنَ (یونس :59) پھر ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے قُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا ( طه : 115) یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت شیون اور صفات کا علم کامل بخش اور پھر دوسری جگہ فرمایا وَ بِذَالِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: 164) ان دونوں آنتیوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ اوروں کی نسبت علوم معرفت الہی میں اعلم میں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے۔اس لیے ان کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس زیادت علم کی طرف اس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا۔(النساء : 114 ) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علوم عطا کیے جو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا اور فضل الہی سے فیضان الہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف الہیہ اور اسرار اور علوم ربانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام۔ر۔خ۔جلد 5 صفحہ 187-186)