حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 433
433 اقوام کے ذکر کے اعتبار سے مغضوب قوت سبھی کے نیچے ہے۔یہود اس قوت کے ماتحت اور مغلوب رہے اور عیسائی قوت واہمہ کے نیچے۔شرک اسی قوت واہمہ سے پیدا ہوتا ہے۔قوت سبعی والا تو افراط سے کام لیتا ہے کہ جہاں ڈرنے کا حق ہے وہاں بھی نہیں ڈرتا۔اور قوت واہمہ کا مغلوب رسی کو سانپ سمجھ کر اس سے بھی ڈر جاتا ہے۔پس عیسائی تو اس قدر گرے کہ انہوں نے ایک مردہ انسان کو خدا بنالیا اور یہودی اتنے بڑھے کہ انہوں نے سرے ہی سے انکار کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں تین قوموں کا ذکر کیا ہے اور تین ہی قسم کے لوگ رکھے بھی ہیں۔اول وہ جو اعتدال سے کام لینے والے ہیں یہ منعم علیہ گروہ ہوتا ہے ان کی راہ صراط مستقیم ہے دوم افراط والی قوم اس کا نام مغضوب ہے سوم تفریط سے کام لینے والے یہ ضالین ہیں۔مغضوب کا لفظ بتا تا ہے کہ خدا تعالیٰ کسی پر غضب نہیں کرتا۔بلکہ خود انسان اپنے افعال بد سے اس غضب کو کھینچ لیتا ہے۔( تفسیر حضرت اقدش جلد اوّل صفحہ 328 329) کیونکہ جب تک توحید کی زندہ روح انسان کے دل میں قائم نہ ہو۔تب تک نجات نہیں ہو سکتی۔یہودی مردوں کی طرح تھے اور باعث سخت دلی اور طرح طرح کی نافرمانیوں کے وہ زندہ روح ان میں سے نکل چکی تھی۔انکو خدا کے ساتھ کچھ بھی میلان باقی نہیں رہا تھا۔اور انکی توریت باعث نقصان تعلیم اور نیز بودہ لفظی اور معنوی تحریفوں کے اس لائق نہیں رہی تھی جو کامل طور پر رہبر ہو سکے۔اس لئے خدا نے زندہ کلام تازہ بارش کی طرح اتارا۔اور اس زندہ کلام کی طرف انکو بلایا۔تا وہ طرح طرح کے دھوکوں اور غلطیوں سے نجات پا کر حقیقی نجات کو حاصل کریں۔سو قرآن کے نزول کی ضرورتوں میں سے ایک یہ تھی کہ تا مردہ طبع یہودیوں کو زندہ تو حید سکھائے اور دوسرے یہ کہ تا انکی غلطیوں پر انکو متنبہ کرے۔اور تیسرے یہ کہ تا وہ مسائل کہ جو توریت میں محض اشارہ کی طرح بیان ہوئے تھے جیسا کہ مسئلہ حشر اجساد اور مسئلہ بقاء روح اور مسئلہ بہشت اور دوزخ انکے مفصل حالات سے آگہی بخشے۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔رخ- جلد 12 صفحہ 352)