حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 432 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 432

432 مذہب اسلام کے اعتبار سے پس میں نے اس پورے سامان کے بعد ارادہ کیا کہ اول اس خاتمہ میں اسلام کی حقیقت لکھوں کہ اسلام کیا چیز ہے؟ اور بعد میں قرآن شریف کی اعلئے اور کامل تعلیم کا اس کی آیات کے حوالہ سے کچھ بیان کروں اور یہ ظاہر کروں کہ در حقیقت تمام آیات قرآنی کے لئے اسلام کا مفہوم بطور مرکز کے ہے اور تمام آیات قرآنی اسی کے گرد گھوم ( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 414-413) رہی ہیں۔رفع اختلافات کے اعتبار سے وَ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوْا فِيْهِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ۔(النحل: 65) اور یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی کہ تا ان لوگوں کا رفع اختلافات کیا جائے اور جو امر حق ہے وہ کھول کر (براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 115 حاشیہ نمبر 10) سنایا جائے۔ہم نے اس لئے کتاب کو نازل کیا ہے تا جو اختلافات عقول ناقصہ کے باعث سے پیدا ہو گئے ہیں یاکسی عمداً افراط و تفریط کرنے سے ظہور میں آئے ہیں ان سب کو دور کیا جائے اور ایمانداروں کے لئے سیدھا راستہ بتلایا جاوے۔اس جگہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو فساد بنی آدم کے مختلف کلاموں سے پھیلا ہے اس کی اصلاح بھی کلام ہی پر موقوف ہے یعنی اس بگاڑ کے درست کرنے کے لئے جو بیہودہ اور غلط کلاموں سے پیدا ہوا ہے ایسے کلام کی ضرورت ہے جو تمام عیوب سے پاک ہو کیونکہ یہ نہایت بدیہی بات ہے کہ کلام کا رہنزدہ کلام ہی کے ذریعہ سے راہ پر آ سکتا ہے۔صرف اشارات قانون قدرت تنازعات کلامیہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ گمراہ کو اس کی گمراہی پر بصفائی تمام ملزم کر سکتے ہیں۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 224 حاشیہ نمبر (11) هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدى وَالْفُرْقَان (الجزو نمبر (2) یعنی قرآن میں تین صفتیں ہیں۔اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا ان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔( براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 225 حاشیہ نمبر 11)