حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 429 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 429

429 إِنَّهُمْ كَانُوْا إِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُوْنَ۔الصَّفْت: 36) قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لا شریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کی رو سے اس کو واحد لاشریک ٹھہراؤ جیسا کہ کلمہ لا إِلهَ إِلَّا الله جو ہر وقت مسلمانوں کو دور دزبان رہتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ الة ـ ولاہ سے مشتق ہے اور اس کے معنے ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔یہ کلمہ نہ تو توریت نے سکھلایا اور نہ انجیل نے صرف قرآن نے سکھلایا اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔یہی کلمہ پانچ وقت مساجد کے مناروں میں بلند آواز سے کہا جاتا ہے جس سے عیسائی اور ہند وسب چڑتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کو محبت کے ساتھ یاد کرنا ان کے نزدیک گناہ ہے۔یہ اسلام ہی کا خاصہ ہے کہ صبح ہوتے ہی اسلامی مؤذن بلند آواز سے کہتا ہے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی ہمارا پیارا اورمحبوب اور معبود بجز اللہ کے نہیں۔پھر دو پہر کے بعد یہی آواز اسلامی مساجد سے آتی ہے۔پھر عصر کو بھی یہی آواز پھر مغرب کو بھی یہی آواز اور پھر عشاء کو بھی یہی آواز گونجتی ہوئی آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے۔کیا دنیا میں کسی اور مذہب میں بھی یہ نظارہ دکھائی دیتا ہے؟!! (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 367-366) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُكُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔(هود: 124) إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأمْرُ كُلُّه ہر ایک بات میرے ہی قبضہ اقتدار میں اور میرے ہی امر سے ہوتی ہے یہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ سلسلہ کا ئنات کا مجبور مطلق ہے بلکہ اپنی عظمت اور اپنا علت العلل ہونا اور اپنامسبب الاسباب ہونا مقصود ہے کیونکہ تعلیم قرآنی کا اصل موضوع توحید خالص کو دنیا میں پھیلانا اور ہر ایک قسم کے شرک کو جو پھیل رہاتھا منانا ہے۔جنگ مقدس یعنی اہل اسلام اور عیسائیوں میں مباحثہ۔رخ- جلد 6 صفحہ 240)