حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 421
421 سورۃ الفاتحہ کے مضامین کی تفصیل بطن قرآن میں بیان ہوئی ہے وَلَقَدْ آتَيْنكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ۔(الحجر : 88) ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورہ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورہ کا نام ام الکتاب اور سورۃ الجامع ہے۔ام الکتاب اس جہت سے کہ جمیع مقاصد قرآنیہ اس سے مستخرج ہوتے ہیں اور سورۃ الجامع اس جہت سے کہ علوم قرآنیہ کے جمیع انواع پر بصورت اجمالی مشتمل ہے۔اسی جہت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ جس نے سورۃ فاتحہ کو پڑھا گویا اس نے سارے قرآن کو پڑھ لیا۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 580 حاشیہ نمبر 11)۔رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ۔اس جگہ سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفتیں بیان فرما ئیں۔یعنے رب العالمین۔رحمان رحیم۔مالک یوم الدین۔۔۔۔یہ چار صداقتیں ہیں جن کا قرآن شریف میں مفصل بیان موجود ہے۔اور قرآن شریف کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ ان صداقتوں کی تفصیل میں آیات قرآنی ایک دریا کی طرح بہتی ہوئی چلی جاتی ہیں۔اور اگر ہم اس جگہ مفصل طور پر ان تمام آیات کو لکھتے۔تو بہت سے اجزاء کتاب کے اس میں خرچ ہو جاتے۔سو ہم نے اس نظر سے کہ انشاء اللہ عنقریب براہین قرآنی کے موقعہ پر وہ تمام آیات به تفصیل لکھے جائیں گے۔ان تمہیدی مباحث میں صرف سورۃ فاتحہ کے قل و دل کلمات پر کفایت کی۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 444 اور 462-461 حاشیہ نمبر 11) یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے عیسائیت کی ضلالت کو دنیا کی سب ضلالتوں سے اول درجہ پر شمار کیا ہے اور فرمایا۔کہ قریب ہے کہ آسمان وزمین پھٹ جائیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں کہ زمین پر یہ ایک بڑا گناہ کیا گیا کہ انسان کا خدا اور خدا کا بیٹا بنایا۔اور قرآن کے اول میں بھی عیسائیوں کا رد اوران کا ذکر ہے۔جیسا کہ آیت ایاک نَعْبُدُ اور وَلَا الضَّالِّينَ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے آخر میں بھی عیسائیوں کا رد ہے۔جیسا کہ سورۃ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ سے سمجھا جاتا ہے۔اور قرآن کے درمیان میں بھی عیسائی مذہب کے فتنہ کا ذکر ہے جیسا کہ آیت تَكَادُ السَّمَوَاتِ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ (مریم: (91) سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن سے ظاہر ہے کہ جب سے کہ دنیا ہوئی۔مخلوق پرستی اور دجل کے طریقوں پر ایساز ور کبھی نہیں دیا گیا۔اسی وجہ سے مباہلہ کیلئے بھی عیسائی ہی بلائے گئے تھے نہ کوئی اور مشرک۔کشتی نوح - ر- خ - جلد 19 صفحہ 84)