حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 388 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 388

388 اور تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دینگے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جولوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے انکو آسمان پر مقدم رکھا جائیگا۔نوع انسان کیلئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول ااور شفیع نہیں مگر حمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔سوتم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اسکے غیر کو اسپر کسی نوع کی بڑائی مت دو۔کشتی نوح۔۔۔خ۔جلد 19 صفحہ 13 ) قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة: 4) قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ میں کامل کتاب ہوں جیسا کہ فرماتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی۔آج میں نے دین تمہارا تمہارے لیے کامل کیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کیا۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 98) میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قرآن ناقص ہے اور حدیث کا محتاج ہے بلکہ وہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائده:4) کا تاج لازوال اپنے سر پر رکھتا ہے اور تبیانًا لِكُلِّ شَيْءٍ کے وسیع اور مرصع تخت پر جلوہ افروز ہے قرآن میں نقصان ہرگز نہیں اور وہ داغ نا تمام اور ناقص ہونے سے پاک ہے۔الحق لدھیانہ - ر - خ - جلد 4 صفحہ 106) کامل کتاب کی تعریف اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں اپنی کمال تعلیم کا آپ دعوئی فرمایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي الخ کہ آج میں نے تمہارے لیے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت یعنی تعلیم قرآنی کو تم پر پورا کیا۔اور ایک دوسرے محل میں اس اکمال کی تشریح کے لیے کہ اکمال کس کو کہتے ہیں فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ۔تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا ، وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْامْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۔وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيْثَةٍ جُتَنَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَالَهَا مِنْ قَرَارٍ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهِ الظَّلِمِينَ (ابراهيم: 25 تا 28)