حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 385 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 385

385 ترجمہ از اصل :۔قرآن کریم معجزہ ہے جس کی مثل کوئی انس و جن نہیں لاسکتا اور اس میں وہ معارف اور خوبیاں جمع ہیں جنہیں انسانی علم جمع نہیں کر سکتا بلکہ وہ ایسی وحی ہے کہ اس کی مثل اور کوئی وحی بھی نہیں اگر چہ رحمن کی طرف سے اس کے بعد اور کوئی وحی بھی ہو۔اس لئے کہ وحی رسانی میں خدا کی تجلیات ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی تجلی جیسی کہ خاتم الانبیاء پر ہوئی ایسی کسی پر نہ پہلے ہوئی اور نہ کبھی پیچھے ہوگی اور جوشان قرآن کی وحی کی ہے وہ اولیاء کی وحی کی شان نہیں اگر چہ قرآن کے کلمات کی مانند کوئی کلمہ انہیں وحی کیا جائے اس لئے کہ قرآن کے معارف کا دائرہ سب دائروں سے بڑا ہے اور اس میں سارے علوم اور ہر طرح کی عجیب اور پوشیدہ باتیں جمع ہیں اور اس کی دقیق باتیں بڑے اعلیٰ درجہ کے گہرے مقام تک پہنچی ہوئی ہیں اور وہ بیان اور برہان میں سب سے بڑھ کر اور اس میں سب سے زیادہ عرفان ہے اور وہ خدا کا معجز کلام ہے جس کی مثل کانوں نے نہیں سنا اور اس کی شان کو جن و انس کا کلام نہیں پہنچ سکتا۔الهدی-رخ- جلد 18 صفحہ 276-275) قرآن کا حقیقی معجزه الم۔ذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ۔(البقرة:32) بے نقط لکھنا کوئی اعلیٰ درجہ کی بات نہیں۔یہ ایک قسم کا تکلف ہے اور تکلفات میں پڑنالغوامر ہے۔مومنوں کی شان یہ ہے۔وَالَّذِيْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ۔(المومنون : 4) یعنی مومن وہ ہوتے ہیں جو لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں اگر بے نقط ہی کو معجزہ سمجھتے ہو تو قرآن شریف میں بھی ایک بے نقط منجزہ ہے اور وہ یہ ہے لا ريب فيه (البقرة:2) اس میں ریب کا کوئی لفظ نہیں۔یہی اس کا معجزہ ہے لا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ۔(حم السجدة: 42) اس سے بڑھکر اور کیا خوبی ہوتی۔میں نے کئی بار اشتہار دیا ہے کہ کوئی ایسی سچائی پیش کرو جو ہم قرآن شریف سے نہ نکال سکیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 455-454) قرآن باطل سے پاک ہے إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِكْرِ لَمَّا جَاءَ هُمْ وَ إِنَّهُ لَكِتَبٌ عَزِيزٌ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ تَنْزِيلٌ مِنْ حَكِيمٍ حَمِيْدٍ۔(حم السجدة : 43) وَإِنَّهُ لَكِتَبٌ عَزِيز الخ (حم السجدة: 42) اور وہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ہمیشہ باطل کی آمیزش سے منزہ رہے گی اور کوئی باطل اس کا مقابلہ نہیں کر سکا اور نہ آئندہ کسی زمانہ میں مقابلہ کرے گا۔یعنی اس کی کامل صداقتیں کہ جو ہر ایک باطل سے منزہ ہیں تمام باطل پرستوں کو کہ جو پہلے اس سے پیدا ہوئے یا آئندہ کبھی پیدا ہوں ملزم اور لاجواب کرتی رہیں گی اور کوئی مخالفانہ خیال اس کے سامنے تاب مقاومت نہیں لائے گا۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 247 حاشیہ نمبر 11)