حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 11
11 تیسری فصل حضرت اقدس علیہ السلام قرآن کریم کی تیسری تجلتی ہیں الهام حضرت اقدس يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَا انْذِرَ آبَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ یعنی اے احمد ! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔جو کچھ تو نے چلایا تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔وہ خدا ہے جس نے مجھے قرآن سکھایا یعنی اس کے حقیقی معنوں پر تجھے اطلاع دی تا کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے اور تیرے انکار کی وجہ سے ان پر نتجت پوری ہو جائے۔ان لوگوں کو کہہ دے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان لایا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 66) فرمان حضرت اقدس قرآن شریف کیلئے تین تجلیات ہیں۔وہ سید نا حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ سے نازل ہوا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ذریعہ سے اس نے زمین پر اشاعت پائی اور مسیح موعود کے ذریعہ سے بہت سے پوشیدہ اسرار اس کے کھلے۔وَلِكُلِّ اَمْرٍ وَقَتْ مَعْلُوم اور جیسا کہ آسمان سے نازل ہوا تھا ویسا ہی آسمان تک اس کا نور پہنچا اور آنحضرت عیے کے وقت میں اس کے تمام احکام کی تکمیل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے وقت میں اس کے ہر ایک پہلو کی اشاعت کی تکمیل ہوئی اور مسیح موعود کے وقت میں اس کے روحانی فضائل اور اسرار کے ظہور کی تکمیل ہوئی۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 66 حاشیہ ) حضرت اقدس کے دعاوی کی سمجھ فہم قرآن کی کلید ہے میرے دعوی کا فہم کلید ہے نبوت اور قرآن شریف کی۔جو شخص میرے دعوئی کو سمجھ لے گا نبوت کی حقیقت اور قرآن شریف کے فہم پر اس کو اطلاع دی جائے گی اور جو میرے دعوی کو نہیں سمجھتا اس کو قرآن شریف پر اور رسالت پر پورا یقین نہیں ہوسکتا۔علیم قرآں علم آں طیب زباں ( ملفوظات جلد اول صفحه 393) علم غیب از وحی خلاق جہاں قرآن کا علم اس پاک زبان کا علم اور الہام الہی سے غیب کا علم۔این سه علم چون نشانها داده اند ہر سم ہمیچوں شاہداں استادہ اند یہ تین علم مجھے نشان کے طور پر دیئے گئے ہیں اور تینوں بطور گواہ میری تائید میں کھڑے ہیں۔(تحفه غزنویہ رخ جلد 15 صفحہ 533)