حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 9
9 دوسری فصل جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام تو ریت کے احیاء کے لئے آئے تھے اُسی طرح حضرت اقدس علیہ السلام قرآن کریم کے احیاء کے لئے آئے ہیں قرآن کریم خاتم الکتب ہے اس لئے حضرت اقدس کو اسی کے احیاء کے لئے بھیجا گیا حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا مسیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآن شریف کے احیاء کے لئے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ( ملفوظات جلد دوم صفحه 361) ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کامل شریعت لے کر آئے جو نبوت کے خاتم تھے اس لئے زمانہ کی استعدادوں اور قابلیتوں نے ختم نبوت کر دیا تھا۔پس حضور علیہ السلام کے بعد ہم کسی دوسری شریعت کے آنے کے قائل ہر گز نہیں۔ہاں جیسے ہمارے پیغمبر خدا ع مثیل موسٹی تھے اسی طرح آپ کے سلسلہ کا خاتم جو خاتم الخلفاء یعنی مسیح موعود ہے ضروری تھا کہ مسیح علیہ السلام کی طرح آتا۔پس میں وہی خاتم الخلفاء اور مسیح موعود ہوں۔جیسے مسیح کوئی شریعت لے کر نہیں آئے تھے بلکہ شریعتِ موسوی کے احیاء کے لئے آئے تھے میں کوئی جدید شریعت لے کر نہیں آیا اور میرا دل ہرگز نہیں مان سکتا کہ قرآن شریف کے بعد اب کوئی اور شریعت آسکتی ہے کیونکہ وہ کامل شریعت اور خاتم الکتب ہے اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے شریعت محمدی کے احیاء کے لئے اس صدی میں خاتم الخلفاء کے نام سے مبعوث فرمایا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 490)