حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 348
348 یا جوج ماجوج اور دجال کی پیشگوئی قَالَ انْظُرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۔قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۔(الاعراف: 15 16) قرآن شریف اس شخص کو جس کا نام حدیثوں میں دجال ہے شیطان قرار دیتا ہے جیسا کہ وہ شیطان کی طرف سے حکایت کر کے فرماتا ہے قَالَ انْظُرْنِي إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۔یعنی شیطان نے جناب الہی میں عرض کی کہ میں اس وقت تک ہلاک نہ کیا جاؤں جب تک کہ وہ مردے جن کے دل مرگئے ہیں دوبارہ زندہ ہوں خدا نے کہا کہ میں نے تجھے اس وقت تک مہلت دی سو وہ دجال جس کا حدیثوں میں ذکر ہے وہ شیطان ہی ہے جو آخر زمانہ میں قتل کیا جائے گا۔جیسا کہ دانیال نے بھی یہی لکھا ہے اور بعض حدیثیں بھی یہی کہتی ہیں اور چونکہ مظہر اتم شیطان کا نصرانیت ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ میں دجال کا تو کہیں ذکر نہیں مگر نصاری کے شر سے خدا تعالی کی پناہ مانگنے کا حکم ہے۔اگر دجال کوئی الگ مفسد ہو تا قرآن شریف میں بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ یہ فرماتا وَلا الضَّالِّينَ یہ فرمانا چاہیے تھا کہ ولا الدجال اور آیت الى يَوْمِ يُبْعَثُونَ سے مراد جسمانی بعث نہیں کیونکہ شیطان صرف اس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ بنی آدم زندہ ہیں۔ہاں شیطان اپنے طور سے کوئی کام نہیں کرتا بلکہ بذریعہ اپنے مظاہر کے کرتا ہے۔سو وہ مظاہر یہی انسان کو خدا بنانے والے ہیں اور چونکہ وہ گروہ ہے اس لئے اس کا نام دجال رکھا گیا ہے کیونکہ عربی زبان میں دجال گروہ کو بھی کہتے ہیں اور اگر دجال کو نصرانیت کے گمراہ واعظوں سے الگ سمجھا جائے تو ایک محذور لازم آتا ہے وہ یہ کہ جن حدیثوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ آخری دنوں میں دجال تمام زمین پر محیط ہو جائیگا انہیں حدیثوں سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ آخری دنوں میں کلیسیا کی طاقت تمام مذاہب پر غالب آ جائے گی۔پس یہ تناقض بجز اس کے کیونکہ دور ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔پیشگوئیوں میں اخفاء اور متشابہات ضروری ہے (حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 41) هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَبَ مِنْهُ ايَتٌ مُحْكَمْتُ هُنَّ أُمُّ الْكِتَبِ وَ أَخَرُ مُتَشبِهتْ ط فَلَمَّا الَّذِيْنَ فِي قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيْلِهِ ، وَ مَا يَعْلَمُ تَأْوِيْلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَ الرَّسِحُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ امَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ، وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُوا الْأَلْبَابِ۔(ال عمران: 8) پیشگوئیوں کے ہمیشہ دو حصہ ہوا کرتے ہیں اور آدم سے اس وقت تک یہی تقسیم چلی آ رہی ہے کہ ایک حصہ متشابہات کا ہوا کرتا ہے اور ایک حصہ ہینات کا اب حدیبیہ کے واقعات کو دیکھا جاوے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو سب سے بڑھ کر ہے مگر علم کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ آپ کا سفر کرنا دلالت کرتا تھا کہ آپ کی رائے اسی طرف تھی کہ فتح ہو گی۔نبی کی اجتہادی غلطی جائے عار نہیں ہوا کرتی اصل صورت جو معاملہ کی ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے انسان اور خدا میں یہی تو فرق ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 320)