حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 343 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 343

343 قرآن کا نام ذکر ہے قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش شدہ صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ انا له لحفِظُونَ (الحجر: 10) اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْابِهِمْ (الجمعہ: 4) کا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 60) وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ - (الحاقة : 49) قرآن متقیوں کو وہ سارے امور یاد دلاتا ہے جو ان کی فطرت میں مخفی اور مستور تھے۔جنگ مقدس - ر- خ - جلد 6 صفحہ 87) وعدہ فرمایا: که إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُوْنَ (الحجر: 10 ) قرآن کا نام ذکر ر کھنے کی وجہ اب دیکھو۔قرآن کریم کا نام ذکر رکھا گیا ہے اس لئے کہ وہ انسان کی اندرونی شریعت یاد دلاتا ہے۔جب اسم فاعل کو مصدر کی صورت میں لاتے ہیں۔تو وہ مبالغہ کا کام دیتا ہے۔جیسازیـد عدل کیا معنے ؟ زید بہت عادل ہے قرآن کوئی نئی تعلیم نہیں لایا بلکہ اس اندرونی شریعت کو یاد دلاتا ہے جو انسان کے اندر مختلف طاقتوں کی صورت میں رکھی ہے علم ہے ایثار ہے، شجاعت ہے، جبر ہے غضب ہے قناعت ہے وغیرہ۔غرض جو فطرت باطن میں رکھی تھی، قرآن نے اسے یاد دلایا۔جیسے فنی کتب مكنون (الواقعۃ : 79) یعنی صحیفہ فطرت میں کہ جو چھپی ہوئی کتاب تھی اور جس کو ہر ایک شخص نہ دیکھ سکتا تھا۔اسی طرح اس کتاب کا نام ذکر بیان کیا۔تا کہ وہ پڑھی جاوے تو وہ اندرونی اور روحانی قوتوں اور اس نور قلب کو جو آسمانی ودیعت انسان کے اندر ہے یاد دلاوے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 60)