حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 325
325 تیسری فصل مقاصد نزول قرآن قرآن کریم کی علت غائی تقویٰ ہے پھر دیکھو کہ تقویٰ ایسی اعلیٰ درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی علت غائی اسی کو ٹھہرایا ہے چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے تو یوں ہی فرمایا ہے: اسم ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى للْمُتَّقِينَ (البقره: 3-2) میر امذ ہب یہی ہے کہ قرآن کریم کی یہ ترتیب بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس میں علل اربعہ کا ذکر فرمایا ہے۔علت فاعلی نمادی صوری غائی۔ہر ایک چیز کے ساتھ یہ چار ہی ملل ہوتی ہیں۔قرآن کریم نہایت اکمل طور پر ان کو دکھاتا ہے۔آلم اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت جاننے والا ہے۔اس کلام کو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔یعنی خدا اس کا فاعل ہے۔ذلِكَ الْكِتُبُ یہ مادہ بتایا۔یا یہ کہو کہ یہ علت مادی ہے۔علت صوری لَا رَيْبَ فِيهِ ہر ایک چیز میں شک و شبہ اور ظنون فاسدہ پیدا ہو سکتے ہیں۔مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے کہ اس میں کوئی ریب نہیں ہے۔لاریب اسی کے لیے ہے۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی شان یہ بتائی ہے کہ لاریب فیہ تو ہر ایک سلیم الفطرت اور سعادت مند انسان کی روح اچھلے گی اور خواہش کرنے گی کہ اس کی ہدا یتوں پر عمل کرے۔مقصد نزول قرآن اور اصلاح ثلاثہ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 282) فالغرض ان تعليم كتاب الله الاحكم ورسول الله صلى عليه وسلم كان منقسما على ثلثة اقسام الاول ان يـجـعـل الـوهوش اناسًا و يعلمهم اداب الانسانية و يهب لهم مدارک و حواسًا۔والثانى ان يجعلهم بعد الانسانية اكمل الناس فى محاسن الاخلاق۔والثالث ان يرفعهم من مقام الاخلاق الى ذرى مرتبة حب الخلاق۔ويوصل الى منزل القرب و الرضاء والمعية والفناء والذوبان والمحوية اعنى الى مقام ينعدم فيه اثر الوجود و الاختيار۔ويبقى الله وحده كما هو يبقى بعد فناء هذا العالم بذاته القهار۔پس خلاصہ یہ کہ قرآن شریف کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت تین قسم پر منقسم تھی۔پہلی یہ کہ وحشیوں کو انسان بنایا جائے۔اور انسانی آداب اور حواس ان کو عطا کئے جائیں۔اور دوسری یہ کہ انسانیت سے ترقی دے کر اخلاق کا ملہ کے درجے تک ان کو پہنچایا جائے اور تیسری یہ کہ اخلاق کے مقام سے ان کو اٹھا کر محبت الہی کے مرتبہ تک پہنچایا جائے۔اور یہ کہ قرب اور رضاء اور معیت اور فنا اور محویت کے مقام ان کو عطا ہوں۔یعنی وہ مقام جس میں وجود اور اختیار کا نشان باقی نہیں رہتا اور خدا کیلا باقی رہ جاتا ہے۔جیسا کہ وہ اس عالم کے فنا کے بعد اپنی ذات قہار کے ساتھ باقی رہیگا۔نجم الہدگی - ر- خ- جلد 14 صفحہ 35-34) قرآن کریم کی تین صفات هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدى وَالْفُرْقَانِ (البقره: 186) یعنی قرآن میں تین صفتیں ہیں۔اول یہ کہ جو علوم دین لوگوں کو معلوم نہیں رہے تھے ان کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔دوسرے جن علوم میں پہلے کچھ اجمال چلا آتا تھا ان کی تفصیل بیان کرتا ہے۔تیسرے جن امور میں اختلاف اور تنازعہ پیدا ہو گیا تھا ان میں قول فیصل بیان کر کے حق اور باطل میں فرق ظاہر کرتا ہے۔( بر بین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 225 حاشیہ نمبر 11)