حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 313
313 قرآن شریف کی ایک برکت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور میرے واسطے دعا کی جاوے کہ میری زبان قرآن شریف اچھی طرح ادا کرنے لگے۔قرآن شریف ادا کرنے کے قابل نہیں اور چلتی نہیں۔میری زبان کھل جاوے۔فرمایا کہ:۔تم صبر سے قرآن شریف پڑھتے جاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو کھول دیگا۔قرآن شریف میں یہ ایک برکت ہے کہ اس سے انسان کا ذہن صاف ہوتا ہے اور زبان کھل جاتی ہے۔بلکہ اطباء بھی اس بیماری کا اکثر یہ علاج بتایا کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 105 ) قرآن کو بہت پڑھنا چاہیئے اور پڑھنے کی توفیق خدا تعالیٰ سے طلب کرنی چاہیئے کیونکہ محنت کے سوا انسان کو کچھ نہیں ملتا۔کسان کو دیکھو کہ جب وہ زمین میں ہل چلاتا ہے اور قسم قسم کی محنت اٹھاتا ہے تب پھل حاصل کرتا ہے مگر محنت کے لئے زمین کا اچھا ہونا شرط ہے۔اسی طرح انسان کا دل بھی اچھا ہو سامان بھی عمدہ ہو سب کچھ کر بھی سکے تب جا کر فائدہ پاوے گا لَيْسَ لِلإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعی۔دل کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط باندھنا چاہیئے جب یہ ہوگا تو دل خود خدا سے ڈرتا رہے گا اور جب دل ڈرتا رہتا ہے تو خدا تعالیٰ کو اپنے بندے پر خود رحم آجاتا ہے اور پھر تمام بلاؤں سے اسے بچاتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 233) آداب تلاوت قرآن کریم ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جائے؟ حضرت اقدس نے فرمایا:۔قرآن شریف تدبر و تفکر و غور سے پڑھنا چاہیئے۔حدیث شریف میں آیا ہے رُبَّ قَارِ يَلْعَنُهُ القران یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتا ہے۔تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گذر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہو تو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبر دغور سے پڑھنا چاہیئے اور اس پر عمل کیا جاوے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحه 157) آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا ہے کہ قرآن شریف غم کی حالت میں نازل ہوا ہے۔تم بھی اسے غم ہی کی حالت میں پڑھا کرو۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بہت بڑا حصہ غم والم میں گذرا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 152)