حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 312 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 312

312 تلاوت قرآن سے قبل استعاذہ کا حکم اعوذ باالله من الشيطن الرجيم اعلم یا طالب العرفان انه من احل نفسه محل تلاوة الفاتحة و الفرقان فعليه ان يستعيذ من الشيطن كما جاء في القرآن فان الشيطن قديدخل حمى الحضرة كالسارقين۔ويدخل الحرم العاصم للمعصومين۔فاراد الله ان ينجى عباده من صول الخناس عند قراءة الفاتحة و كلام رب الناس۔ويد فعه بحربته منه و يضع الفاس في الراس و يخلص الغافلين من النعاس۔فعلم كلمته منه لطرد الشيطان المدحور الى يوم النشور۔(اعجاز امسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 81-82) اے طالب معرفت جان لو کہ جب کوئی شخص سورتہ فاتحہ اور قرآن کریم کی تلاوت کرنے لگے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اعوذ بالله من الشیطان پڑھے جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے۔کیونکہ کبھی شیطان خدا تعالیٰ کی رکھ میں چوروں کی طرح داخل ہو جاتا ہے اور اس حرم کے اندر آ جاتا ہے جو معصومین کا محافظ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ سورت فاتحہ اور قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اپنے بندوں کو شیطان کے حملہ سے بچائے، اسے اپنے حربہ سے پسپا کرے اس کے سر پر تبرر کھے اور غافلوں کو غفلت سے نجات دے۔پس اس نے شیطان کو دھتکارنے کے لیے جو قیامت تک راندہ درگاہ ہے اپنے ہاں سے بندوں کو ایک بات سکھائی۔تلاوت قرآن کریم کی تلقین و القرآن الحكيم (يس: 3) فرقان کے بھی یہی معنے ہیں یعنی یہی ایک کتاب حق و باطل میں فرق کرنے والی ٹھہرے گی اور کوئی حدیث کی یا اور کوئی کتاب اس حیثیت اور پایہ کی نہ ہوگی اس لئے اب سب کتابیں چھوڑ دو اور رات دن کتاب اللہ ہی کو پڑھو۔بڑا بے ایمان ہے وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف التفات نہ کرے اور دوسری کتابوں پر ہی رات دن جھکا ر ہے۔ہماری جماعت کو چاہیئے کہ قرآن کریم کے شغل اور تدبر میں جان و دل سے مصروف ہو جائیں اور حدیثوں کے شغل کو ترک کریں۔بڑے تاسف کا مقام ہے کہ قرآن کریم کا وہ اعتنا اور تدارس نہیں کیا جاتا جو احادیث کا کیا جاتا ہے۔اس وقت قرآن کریم کا حربہ ہاتھ میں لو تو تمہاری فتح ہے۔اس نور کے آگے کوئی ظلمت ٹھہر نہ سکے گی۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 386) وَقَالَ الرَّسُوْلُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُوْراً۔(الفرقان: 31) مسلمانوں کی حالت اس وقت ایسی ہی ہو رہی ہے۔وہ جانتے ہیں کہ ساری ترقیوں اور کامیابیوں کی کلید یہی قرآن ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہیئے۔مگر نہیں اس کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی۔ایک شخص جو نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ اور پھر نری ہمدردی ہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم اور ایما سے اس طرف بلاوے تو اسے کذاب اور دجال کہا جاتا ہے۔اس سے بڑھ کر اور کیا قابل رحم حالت اس قوم کی ہوگی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 140)