حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 293
293 این آتشم از آتش مهر محمدی ست و این آب من ز آب زلال محمد است یہ میری آگ محمد کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا پانی محمد کے مصفا پانی میں سے لیا ہوا ہے۔در مشین فارسی صفحہ 145 ) ( اخبار۔ریاض ہندا مر تسر مورخہ یکم مارچ 1886ء) سورة الذهب تَبَّتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَّ (اللهب : 2) ابو لہب سے مراد حضرت اقدس کا دشمن ہے سورۃ تبت کی پہلی آیت یعنی نَبَّتُ يَدَآ أَبِي لَهَبٍ و تب اس موذی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مظہر جمال احمدی یعنی احمد مہدی کا مکفر اور مکذب اور مہین ہوگا۔(تحفہ گولڑو یہ رخ جلد 17 صفحہ 214 تا215) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ۔۔۔۔۔۔۔۔(سورة الفاتحه (7) سے مراد وہ لوگ ہیں جو سیح موعود کو دکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ تَبَّتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ہے۔الهام حضرت اقدس (تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 218) تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّ تَبَّ۔مَا كَانَ لَهُ اَنْ يَدْخُلَ فِيهَا إِلَّا خَائِفًا وَّ مَا أَصَابَكَ فَمِنَ اللَّهِ - ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بھی ہلاک ہوا۔اور اس کو لائق نہ تھا کہ اس کام میں بجز خائف اور ترسان ہونے کے یوں ہی دلیری سے داخل ہو جاتا اور جو تجھ کو پہنچے وہ تو خدا کی طرف سے ہے۔گیا۔( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 1 صفحه 609 حاشیہ در حاشیہ نمبر 3) (الہام ) ہلاک ہو گئے دونو ہا تھ ابی لہب کے (جبکہ اس نے یہ فتویٰ لکھا ) اور وہ آپ بھی ہلاک ہو اس الہام میں سورۃ تبت کی پہلی آیت کا مصداق اس شخص کو ٹھہرایا ہے جس نے سب سے پہلے خدا کے مسیح موعود پر تکفیر اور توہین کے ساتھ حملہ کیا۔اور یہ دلیل اس بات پر ہے کہ قرآن شریف نے بھی اسی سورت میں ابولہب کے ذکر میں علاوہ دشمن رسول اللہ ﷺ کے مسیح موعود کے دشمن کو بھی مراد لیا ہے اور یہ تفسیر اس الہام کے ذریعہ سے کھلی ہے۔اس لئے یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے۔غرض آیت تَبَّتُ يَدَآ اَبى لَهَب وَ تَبَّ جو قرآن شریف کے آخری سپارہ میں چار آخری سورتوں میں سے پہلی سورۃ ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کے موذی دشمنوں پر دلالت کرتی ہے ایسا ہی بطور اشارۃ النص اسلام کے مسیح موعود کے ایذا دہندہ دشمنوں پر اس کی دلالت ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ آیت