حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxix
xxvi ایک نام میرے پیارے اور محب محترم شیخ رحمت اللہ صاحب بنگوی مرحوم کا ہے۔آپ نے اپنی شب و روز کی مسلسل دعاؤں سے اس خدمت کی تکمیل کی خاطر میری مدد کی ہے اور ہر دم ہمت افزائی کی ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس خدمت کا کتابی شکل میں مکمل ہونا آپ ہی کی دعاؤں سے ہوا ہے۔آپ صاحب کشوف والہام تھے اور آپ نے کئی مرتبہ فرمایا تھا کہ آپ نے کشفی نظارے میں اس کتاب کو مکمل صورت میں دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزا دے اور اپنی جناب میں مقعد صدق عطا فرمائے۔آمین آپ کی اس عنایت خاص کی یاد میں خاکسار چاہتا ہے کہ چند الفاظ میں اپنے محسن کا تعارف پیش کروں۔محترم شیخ صاحب کے والد محترم صحابی تھے۔آپ کا نام حکیم شیخ عمر الدین تھا۔شیخ صاحب کی روایت کے مطابق آپ کے والد کی نرینہ اولاد نہیں تھی۔اس خواہش کی بنا پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دعا کے لئے عرض کیا۔حضرت اقدس نے خط کے ذریعے جوا با فرمایا۔اللہ تعالیٰ آپ کو ایک بیٹا دیگا۔خادم دین ہوگا اور عمر دراز ہوگی۔اس کا نام رحمت اللہ رکھنا۔یہ ہیں میرے دوست جن کا نام حضرت اقدس نے خود تجویز فرمایا اور جن کے بارے میں خادم دین ہونے کی اور عمر دراز ہونے کی پیشگوئی کی۔چنانچہ الحمد للہ کہ ایسے ہی ہوا۔آپ نے باوجود دنیوی مشاغل کے تمام عمر دین کی خدمت میں گزار دی۔اول جماعت لاھور اور پھر ربوہ میں محصل چندہ جات کے طور پر طویل خدمت کی۔اور با وجود کمزور جسم ہونے کے 88 سال زندگی گزار کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے ہیں۔اللهم اغفر وارحمه۔و انت خير الراحمين۔خاکسار خلافت لائبریری کے ادارے اور اس کے کارکنوں کا بھی بہت ہی شکر گزار ہے۔خاص طور پر لائبریرین محترم حبیب الرحمن زیروی صاحب کا شکریہ ادا کرنا مجھ پر لازم ہے۔آپ نے تقریباً 18 سال تک خاکسار کو لائبریری میں ایک مخصوص جگہ دی اور ہر اعتبار سے میری ہمت افزائی کی۔اللہ تعالیٰ ان کو جزاء خیر سے نوازے۔آمین اظہار تشکر میں عزیزم ڈاکٹر محمد احمد اشرف صاحب کا نام آخر پر آ رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا کام بھی آخر پر ہی ہوسکتا تھا۔یعنی کتاب کی املاء اور حوالہ جات کو درست کرنا۔اس لئے آخر پر آنا دراصل آپ کے کام کی غیر معمولی اہمیت کی وجہ سے ہے۔عزیزم ڈاکٹر صاحب نے چند ایام میں دن رات محنت کر کے کتاب کو لفظ لفظا پڑھا ہے اور بہت سی املاء اور حوالہ جات کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے۔کتاب کی ضخامت کے پیش نظر آپ کا کام بے انتہا تحسین اور تشکر چاہتا ہے۔خاکساران کا صرف ممنون ہی نہیں بلکہ بہت شکر گزار ہے۔آپ نے کتاب کے مندرجات کی صحت کو قائم کیا اور اس کی افادیت کو دوبالا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم اور فرمودات حضرت مسیح موعود سے آپ کی محبت کو ہمیشہ قائم رکھے اور ترقی دے۔آمین تعارف کے طور پر عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کے والد صاحب مکرم محمد شفیع اشرف صاحب مرحوم بھی واقف زندگی مبلغ احمدیت تھے اور صاحب علم و ادب انسان تھے۔آپ سلسلے کے بہت سے اہم عہدوں پر فائز رہے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔آمین