حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 230 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 230

230 حضرت اقدس کا مہم من اللہ ہونے کے اعتبار سے وَأَوْحَيْنَا إِلَى أُمِّ مُوسَى أَنْ أَرْضِعِيهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَالْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ) (القصص: 8) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ إِنَّ بَابَ الْإِلْهَامِ مَسْدُودٌ عَلى هَذِهِ الْأُمَّةِ وَمَا تَدَبَّرَ فِي الْقُرْآنِ حَقَّ التَّدَبُّرِ وَمَا لَقِيَ الْمُلْهَمِيْنَ - فَاعْلَمُ أَيُّهَا الرَّشِيدُ أَنَّ هَذَا الْقَوْلَ بَاطِلٌ بِالْبَدَاهَةِ وَيَخَالِفُ الْكِتَابَ وَالسُّنَّةَ وَشَهَادَاتِ الصَّالِحِيْنَ - أَمَّا كِتَابُ اللهِ فَانتَ تَقْرَءُ فِي الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ آيَاتٍ تُؤيّدُ قَوْلَنَا هَذَا وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ الْمُحْكَم عَنْ بَعْضٍ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ كَلَّمَهُمْ رَبَّهُمْ وَخَاطَبَهُمْ وَأَمَرَهُمْ وَنَهَاهُمْ وَمَا كَانُوْا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا رُسُلِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - أَلَا تَقْرَءُ فِي الْقُرْآنِ لَا تَخَا فِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَآدُّوْهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ فَتَدَبَّرُ أَيُّهَا الْمُنْصِتُ الْعَاقِلُ كَيْفَ لَا يَجُوزُ مُكَالِمَاتُ اللَّهِ بِبَعْضٍ رِجَالِ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي هِيَ خَيْرُ الْأُمَمِ وَقَدْ كَلَّمَ اللَّهُ نِسَاءَ قَوْمٍ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَقَدْ أَتَا كُمْ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ ( ترجمه از مرتب ) بعض لوگ کہتے ہیں کہ اِس اُمت میں الہام کا دروازہ بند ہے ایسے لوگوں نے قرآن کریم پر پوری طرح تدبر نہیں کیا اور نہ ہی مسلمین سے ملے ہیں۔پس اے صاحب رُشد جان لے کہ یہ بات بالکل غلط ہے اور کتاب اللہ ، سُنتِ نبوی اور صالحین کی شہادت کے خلاف ہے۔کتاب اللہ ہی کو دیکھوتم اس میں بہت سی ایسی آیات پڑھو گے جو ہماری بات کی تائید کرتی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محکم کتاب میں بعض مردوں اور عورتوں سے متعلق خبر دی ہے کہ ان کے رب نے ان سے کلام کیا اور انہیں مخاطب کیا۔انہیں بعض باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا اور بعض امور سے منع کیا اور وہ ربّ العالمین کی طرف سے نہ تو نبی ہے اور نہ ہی رسول۔کیا تو قرآن کریم میں یہ آیت نہیں پڑھتا جس میں حضرت موسیٰ کی ماں کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ لَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي إِنَّا رَادُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِينَ۔پس اے منصف اور عقل مند تم اس بات پر غور کرو کہ اس اُمت میں جو خیر الام ہے کیوں بعض مردوں سے خدا تعالی کا کلام کرنا جائز ہیں حالانکہ اس نے تم سے پہلی امتوں کی عورتوں سے بھی کلام کیا ہے اور پہلوں کی مثالیں تمہارے پاس موجود ہیں۔(حمامة البشری رخ جلد 7 صفحہ 297) ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار یہ عقیده برخلاف گفته داوار ہے پر اتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار ( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 137 )( در شین صفحه 127)