حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 217 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 217

217 ترجمہ از مرتب :۔موسیٰ علیہ السلام نے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار کہہ کر اُن اصحاب کی خبر دی جو ہمارے برگزیدہ نبی ﷺ کے محمد نام کے مظہر تھے اور خدائے قہار کے جلال کو ظاہر کرنے والے تھے اور عیسٹی نے ایک دوسرے گروہ اور ان کے امام مسیح موعود کی خبر دی جو رحم کرنے والے اور پردہ پوشی کرنے والے احمد نام کے مظہر اور خدائے رحیم وغفا ر کے جمال کا سرچشمہ ہیں ان الفاظ میں کہ وہ گروہ اُس پودہ کی مانند ہے جس نے خوبصورت کونپلیں نکالی ہوں اور جو کسانوں کو تعجب میں ڈال رہا ہو اور موسیٰ اور عیسی ہر دو نے ان صفات کی خبر دی جو ان کی ذاتی صفات سے مناسبت رکھتی تھیں اور ہر ایک نے ایک ایسی جماعت کی خبر دی جو ان کے پسندیدہ اخلاق کے مشابہ اخلاق رکھتی تھی۔پس حضرت موسی نے أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّار کہہ کر ان اصحاب کی طرف اشارہ کیا جنہوں نے ہمارے محبوب نبی ﷺ کی صحبت کو پایا اور انہوں نے میدانِ جنگ میں کافروں کا نہایت سختی سے مقابلہ کیا اور شمشیر براں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے جلال کو ظاہر کیا اور وہ محمد رسول اللہ کے نام کے ظن ہو گئے جو اللہ تعالیٰ کے اسم قہار کے مظہر ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ کا اور آسمان وزمین کے برگزیدہ لوگوں کا سلام پہنچے۔اور عیسی علیہ السلام نے گزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْقَہ کہ کر بعد میں آنے والے ایک گروہ اور ان کے امام مسیح موعود کی طرف اشارہ کیا بلکہ آپ نے صراحت سے اس کے نام احمد کا بھی ذکر کر دیا اور اس کے ساتھ اس مثال کی طرف بھی اشارہ کیا جو قران مجید میں مذکورہ ہے کہ مسیح موعود نرم سبزہ کی طرح ظاہر ہوگا نہ کہ کسی سخت چیز کی مانند۔اعجاز مسیح - رخ جلد 18 صفحہ 125 تا 127)