حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 182 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 182

182 فَظَهَرَ مِنْ هذَا الْمَقَامِ بِالظُّهُورِ الْبَيِّنِ الشَّامِ أَنَّهُ مَنْ قَرَءَ هَذَا الدُّعَاءَ فِي صَلَاتِهِ أَوْ خَارِجَ الصَّلَاةِ فَقَدْ سَأَلَ رَبَّهُ أَن يُدْخِلَهُ فِي جَمَاعَةِ الْمَسِيحِ الَّذِي يُكَفِّرُهُ قَوْمُهُ وَيُكَذِبُونَهُ وَيُفَسِقُونَهُ وَيَحْسَبُونَهُ شَرَّ الْمَخْلُوقَاتِ وَيُسَمُونَهُ دَجَّالًا وَمُلْحِدًا ضَالًا كَمَا سَمَّى عِيسَى الْيَهُودُ الْمَلْعُون - اس مقام سے اچھی طرح سے معلوم ہوا کہ جو کوئی نماز میں یا نماز سے باہر اس دعا کو پڑھتا ہے وہ اپنے پروردگار سے سوال کرتا ہے کہ اس کو اُس مسیح کی جماعت میں داخل فرمادے جس کو اس کی قوم کا فر کہے گی اور اس کی تکذیب کرے گی اور اس کو سب مخلوقات سے بدتر سمجھے گی اور اس کا نام دجال اور ملحد اور گمراہ رکھے گی خطبہ الہامیہ۔ر خ جلد 6 1 صفحہ 197-198) جیسا کہ یہو د ملعون نے عیسی کا نام رکھا تھا۔فَفَكِّرُوا فِي أُمِّ الْكِتَبِ حَقَّ الْفِكْرِ لِمَ حَذَّرَكُمُ اللهُ أَن تَكُونُوا الْمَغْضُوْبَ عَلَيْهِمْ مَّا لَكُمْ لَا تُفَكَّرُونَ - فَاعْلَمُوا أَنَّ السِّرِّفِيهِ أَنَّ اللهَ كَانَ يَعْلَمُ أَنَّهُ سَوْنَ يُبْعَثُ فِيْكُمُ الْمَسِيحُ الثَّانِي كَأَنَّهُ هُوَ وَكَانَ يَعْلَمُ أَنَّ حِزْبًا مِّنْكُمْ يُكَفِّرُوْنَه وَيُكَذِّبُونَهُ وَيُحَقِّرُونَهُ وَيَشُتُمُوْنَه وَيُرِيدُونَ أَنْ يَقْتُلُوهُ وَيَلْعَنُونَهُ فَعَلَّمَكُمْ هَذَا الدُّعَاءَ رُحْمًا عَلَيْكُمْ وَإِشَارَةٌ إِلَى نَبَاءِ قَدَّرَهُ فَقَدْ جَاءَ كُمُ مَّسِيحُكُمْ فَإِن لَّمْ تَنْتَهُوا فَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَ چاہیئے کہ ام الکتاب میں خوب غور کرو کہ کیوں تم کو خدا نے اس سے ڈرایا کہ تم مغضوب علیہم ہو جاؤ۔جان لو کہ اس میں یہ راز تھا کہ خدا جانتا تھا کہ مسیح ثانی تم میں پیدا ہو گا اور گویا وہ وہی ہوگا اور خدا جانتا تھا کہ ایک گروہ تم میں سے اس کو کا فراور جھوٹا کہے گا اسے گالیاں دیں گے اور حقیر جائیں گے اور اس کے قتل کا ارادہ کریں گے اور اس پر لعنت کریں گے۔پس اس نے رحم کر کے اور اس خبر کی طرف جو مقدر تھی اشارہ کے لئے یہ دعا تم کو سکھائی۔پس تمہارا مسیح تمہارے پاس آ گیا اب اگر تم ظلم سے باز نہ آئے تو ضرور پکڑے جاؤ گے۔خطبہ الہامیہ رخ جلد 16 صفحہ 190 تا 192) میں ایک فضل کی طرح اہل حق کے لئے آیا پر مجھ سے ٹھٹھا کیا گیا اور مجھے کافر اور دو بال ٹھہرایا گیا اور بے ایمانوں میں سے مجھے سمجھا گیا۔اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا تا وہ پیشگوئی پوری ہوتی جو آیت غیر المغضوب علیہم کے اندر مخفی ہے کیونکہ خدا نے منعم علیہم کا وعدہ کر کے اس آیت میں بتا دیا ہے کہ اس امت میں وہ یہودی بھی ہونگے جو یہود کے علماء سے مشابہ ہونگے۔جنہوں نے حضرت عیسی کو سولی دینا چاہا اور جنہوں نے عیسی کو کافر اور دجال اور ملحد قرار دیا تھا اب سوچو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ تھا اسی بات کی طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود اس امت میں سے آنے والا ہے اس لئے اس کے زمانہ میں یہود کے رنگ کے لوگ بھی پیدا کئے جائیں گے جو اپنے زعم میں علماء کہلائیں گے سو آج تمہارے ملک میں وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔(تذکرہ الشہا دتین رخ جلد20 صفحہ 65-66)