حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 175 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 175

175 اس آیت میں حضرت اقدس کا ذکر ایک دعا کے اعتبار سے سورۃ فاتحہ میں دعا مانگی گئی ہے اور یہ دعا جس وقت اکٹھی پڑھی جاتی ہے یعنی اس طرح پر کہا جاتا ہے کہ اے خدا ہمیں منعم علیہم میں داخل کرا اور مغضوب علیہم اور ضالین سے بچا تو اُس وقت صاف سمجھ آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم میں منعم علیہم میں سے ایک وہ فریق ہے جو مغضوب علیہم اور ضالین کا ہمعصر ہے اور جبکہ مغضوب علیہم سے مراد اس سورۃ میں بالیقین وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود سے انکار کرنے والے اور اس کی تکفیر اور تکذیب اور توہین کرنے والے ہیں تو بلا شبہ ان کے مقابل پر منعم علیہم سے وہی لوگ اس جگہ مرا در کھے گئے ہیں جو صدق دل سے مسیح موعود پر ایمان لانے والے اور اُس کی دل سے تعظیم کرنے والے اور اسکے انصار ہیں اور دنیا کے سامنے اسکی گواہی دیتے ہیں۔رہے ضالین۔پس جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں آنحضرت ﷺ کی شہادت اور تمام اکابر اسلام کی شہادت سے ضالین سے مراد عیسائی ہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 228-229) یہ بھی یادر ہے کہ سورۃ فاتحہ کے عظیم الشان مقاصد میں سے یہ دعا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور جس طرح انجیل کی دعا میں روٹی مانگی گئی ہے اس دعا میں خدا تعالیٰ سے وہ تمام نعمتیں مانگی گئی ہیں جو پہلے رسولوں اور نبیوں کو دی گئیں تھیں یہ مقابلہ بھی قابل نظارہ ہے اور جس طرح حضرت مسیح کی دعا قبول ہوکر عیسائیوں کو روٹی کا سامان بہت کچھ مل گیا ہے اسی طرح یہ قرآنی دعا آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے قبول ہو کر اخیار و ابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے اور دراصل مسیح موعود کا اِس اُمت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گوشفی طور پر بہت سے اختیار وابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی مماثلت کا حصہ لیا ہے مگر اس امت کا مسیح موعود کھلے کھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل کھڑا کیا گیا ہے تا موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت سمجھ آجائے۔(کشتی نوح۔رخ جلد 19 صفحہ 52-53) میں بیان کر چکا ہوں کہ سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں (۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو سیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وآخرين منهم لما يلحقوا بهم (الجمعة:4) - غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیہم کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے آیت صراط الذین انعمت علیھم میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دوہی ہیں۔ایک صحابہ کی جماعت۔دوسری وآخرین منھم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم تو دل میں یہی ملحوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے (2) دوسری دعا غیر المغضوب علیہم