حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 174
174 ساقی من هست آن جاں پرورے ہر زماں مستم کند از ساغری وہی روح پرور شخص تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جام شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے محو روئے او شد است این روئے من ہوئے او آید زبام و کوئے من یہ میرا چہرہ اُس کے چہرہ میں مواور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اُسی کی خوشبو آ رہی ہے بکه من در عشق او هستم نہاں من همانم - من همانم ـ من ہماں از بسکہ میں اُس کے عشق میں غائب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں - جان من از جان او یا بد غذا از گریبانم عیاں شد آں ذکا ! میری روح اُس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریبان سے وہی سورج نکل آیا ہے احمد اندر جان احمد شد پدید اسم من گر دید اسم آں وحید احمد کی جان کے اندراحمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اس لاثانی انسان کا نام ہے (سراج منیر - رخ جلد 12 صفحہ 97) نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے اور کسی کیلئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کا ر اُس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لیے ضروری تھا کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔(کشتی نوح - رخ جلد 19 صفحہ 14) لَا شَكٍّ أَنَّ سَيِّدَنَا سَيِّدَ الأَنَامِ وَصَدْرَ الْإِسْلَامِ كَانَ مَثِيْلَ مُوسَى - فَاقْتَضَتْ رِعَايَةُ الْمُقَابَلَةِ أَن يُبْعَثَ فِي آخِرِ زَمَنِ الْأُمَّةِ مَثِيلُ عِيسَى وَإِلَيْهِ أَشَارَ رَبُّنَا فِي الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ - فَإِنْ شِئْتُمْ فَفَكَّرُوْا فِي سُوْرَةِ النُّورِ وَالتَّحْرِيمِ وَالْفَاتِحَةِ- هَذَا مَا كَتَبَ رَبُّنَا الَّذِي لَا يَبْلُغُ عِلْمَهُ الْعَالِمُونَ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ تُؤْمِنُونَ - تر جمعہ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے آقا سرور کائنات اور بانی اسلام ﷺ حضرت موسیٰ کے مینٹل تھے۔اسی تقابل کی مناسبت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ اس اُمت کے آخری زمانہ میں حضرت عیسی کا ایک مثیل مبعوث ہو اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے پاک صحیفوں میں اشارہ فرمایا ہے۔اگر تم چاہو تو سُورہ نور، سُورہ تحریم اور سُورہ فاتحہ میں غور کرو یہ ہمارے رب کا نوشتہ ہے جس کو عالم لوگ از خود نہیں جان سکتے۔پھر تم اس کے بعد کس بات پر ایمان لاؤ گے۔(مواہب الرحمن - رخ جلد 19 صفحہ 278 279)