حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 164 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 164

164 مکالمہ الہی کا اگر انکار ہو تو پھر اسلام ایک مردہ مذہب ہوگا۔اگر یہ دروازہ بھی بند ہو تو اس اُمت پر قہر ہوا خیر الامم نہ ہوئی۔اور اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا بے سود ٹھہری۔تعجب ہے کہ یہود تو یہ امت بن جاوے اور مسیح ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 53 حاشیہ) دوسروں سے آوے۔اراده ازلی این زمان و وقت آورد تو چیستی که زتو رو این قضا باشد مرد خدا کا از ملی ارادہ یہ زمانہ اور یہ وقت لایا ہے تو ہے کیا چیز کہ اس قضا وقد ر کو پلٹ دے۔بے خردی نزد ما بیا و نشیں که ظلِ اہل صفا موجب شفا باشد بے وقوفی سے چلا نہ جابلکہ ہمارے پاس آکر بیٹھ کہ اہل اللہ کا سایہ شفا کا موجب ہوا کرتا ہے۔حلقه ابرار باش روزے چند مگر عنایت قادر گرہ کشا باشد کچھ دن نیکیوں کے حلقہ میں آکر بسر کر شاید اس قادر کی مہربانی تیری گرہ کو کھول دے۔زہے خجستہ زمانے کہ سوئے ما آئی زہے نصیب تو گر شوق و التجا باشد وہ کیسا اچھا زمانہ ہو گا جب تو ہماری طرف آئے گا زہے قسمت اگر تجھے شوق اور آرزو پیدا ہو جائے۔( تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحه 137 ) ( در شین فاری مترجم صفحه 278) معانی و استقامت استقامت سے کیا مراد ہے؟ ہر ایک چیز جب اپنے عین محل اور مقام پر سودہ حکمت اور استقامت سے تعبیر پاتی ہے مثلاً دور بین کے اجزاء کو اگر جدا جدا کر کے ان کو اصل مقامات سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھ دیں وہ کام نہ دے گی۔غرض وضع الشئی فی محلہ کا نام استقامت ہے یادوسرے الفاظ میں یہ کہو کہ ہیئت طبعی کا نام استقامت ہے۔پس جب تک انسانی بناوٹ کو ٹھیک اسی حالت پر نہ رہنے دیں اور اسے مستقیم حالت میں نہ رکھیں وہ اپنے اندر کمالات نہیں پیدا کر سکتی۔دعا کا طریق یہی ہے کہ دونوں اسم اعظم جمع ہوں اور یہ خدا کی طرف جاوے کسی غیر کی طرف رجوع نہ کرے خواہ وہ اس کی ہوا و ہوس ہی کا بت کیوں نہ ہو؟ جب یہ حالت ہو جائے تو اس وقت اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن: 61) کا مزا آ جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 37) استقامت۔۔۔۔وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم کے معنے بھی فنا ہی کے کرتے ہیں۔یعنی روح، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہو جائیں اواپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مر جائیں۔بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اٹھ جاتے ہیں نماز جو دعا ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کو جو خدائے تعالیٰ کا اسم اعظم ہے مقدم رکھا ہے۔ایسا ہی انسان کا اسم اعظم استقامت ہے۔اسم اعظم سے مراد یہ ہے کہ جس ذریعہ سے انسانیت کے کمالات حاصل ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اس کی طرف ہی اشارہ فرمایا ہے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدة: 31) یعنی جو لوگ اللہ تعالی کی ربوبیت کے نیچے آگئے اور اس کے اسم اعلی استقامت کے نیچے جب بیضہ بشریت رکھا گیا پھر اس میں اس قسم کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے کہ ملائکہ کا نزول اس پر ہوتا ہے اور کسی قسم کا خوف و حزن اُن کو نہیں رہتا۔میں نے کہا ہے کہ استقامت بڑی چیز ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 35 تا 37)