حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 922
922 چوصوف صفا در دل آمیختند مداد از سوادِ عیون ریختند جب صفائی کا صوف دل میں ملاتے ہیں تو آنکھوں کی سیاہی سے روشنی ڈالتے ہیں۔دو چیز است چوپان دنیا و دیں دل روشن و دیده دُور ہیں دو چیزیں دین و دنیا کی محافظ ہیں۔ایک تو روشن دل دوسرے دوراندیش نظر۔راست آں بندگانِ کرام که از بهر شان می کند صبح و شام خدا کے نیک بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے خا صبح وشام کو پیدا کرتا ہے۔بدنبال چشمے چومے بنگر ند جہانے بدنبال خود می کشند جب وہ کن انکھیوں سے دیکھتے ہیں تو ایک جہان کو اپنے پیچھے پیچ لیتے ہیں۔خدا اثر باست در گفتگو ہائے شاں چکد نور وحدت زرو ہائے شاں ان کے کلام میں اثر ہوتا ہے اور ان کے چہروں سے توحید کا نور ٹیکتا ہے۔در او شاں بہ اظہار ہر خیر و شر نها دست حق خاصیت مستتر ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالیٰ نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے۔نیستند ولی از خدا هم جدا نیستند باتن خدا اگر چے اگر چہ کہنے کو وہ خدا نہیں ہیں۔لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔کے را که او ظل یزداں بود قیاسش بخود جهل و طغیاں بود جو شخص خدا کا ظل ہو اس کو اپنے پر قیاس کرنا جہالت اور سرکشی ہے۔در متین فارسی صفحہ 322-321) ( اخبار البدر صفحہ نمبر 27 مورخہ 29 اپریل1909) مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى۔(النجم: 18) انتہائی درجہ ترقیات کا ملہ کا) وہ ہے جس کی نسبت لکھا ہے مَازَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى - انسان زمانہ سیر سلوک میں اپنے واقعات کشفیہ میں بہت سے عجائبات دیکھتا ہے اور انواع و اقسام کی واردات اس پر وارد خط ہوتی ہیں مگر اعلیٰ مقام اس کا عبودیت ہے جن کا لازمہ محو اور ہوشیاری سے اور شکر اور شطح سے بکلی بیزاری ہے۔(مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 12 مکتوب نمبر 8) فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَل جَعَلَهُ دَكَّا وَّ خَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُحْنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔(الاعراف: 144) جب طالب کمال وصال کا خدا کے لیے اپنے تمام وجود سے الگ ہو جاتا ہے اور کوئی حرکت اور سکون اس کا اپنے لیے نہیں رہتا بلکہ سب کچھ خدا کے لیے ہو جاتا ہے تو اس حالت میں اس کو ایک روحانی موت پیش آتی ہے جو بقا کو مستلزم ہے پس اس حالت میں گویا وہ بعد موت کے زندہ کیا جاتا ہے اورغیر اللہ کا وجود اس کی آنکھ میں باقی نہیں رہتا یہاں تک کہ غلبہ مشہور ہستی الہی سے وہ اپنے وجود کو بھی نابود ہی خیال کرتا ہے پس یہ مقام عبودیت و فناء اتم ہے جو غایت سیر اولیاء ہے اور اسی مقام میں غیب سے باذن اللہ ایک نو ر سالک کے قلب پر نازل ہوتا ہے جو تقریر اور تحریر سے باہر ہے۔