حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 919 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 919

919 خدا کی راہ میں خرچ کرنا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَ مَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ۔(آل عمران: 93) دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی واسطے علم تعبیر الرویا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقا اور ایمان کے حصول کے لیے فرمایا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک کہ تم عزیز ترین چیز خرچ نہ کرو گے کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق الہی کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بدوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچاسکتا ہے دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لیے ایثا ر ضروری سے ہے اور اس آیت میں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں لہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے۔کیا تمہیں خبر نہیں کہ تمہیں تو یہ حکم دیا وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْهَرُ (الضحى: 11) اور سائل خواہ گھوڑے پر ہی سوار ہو کر آیا ہو پھر بھی واجب نہیں کہ اس کو رد کیا جاوے تیرے لئے یہ حکم ہے کہ تو اس کو جھڑک نہیں ہاں خدا تعالیٰ نے اس کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ سوال نہ کرے۔وہ اپنی خلاف ورزیوں کی خود سزا پالے گا لیکن تمہیں یہ مناسب نہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے ایک واجب العزت حکم کی نافرمانی کرو۔غرض اس کو کچھ دے دینا چاہیئے اگر پاس ہو اور اگر پاس نہ ہو تو نرم الفاظ سے اس کو سمجھا دو۔صدق اور وفا ( ملفوظات جلد اول صفحہ 368-367) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 375-374) وَ إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى۔(النجم: 38) نامرد بزدل بیوفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے۔ابراہیم علیہم الصلوۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملاوہ کس بناء پر ملا؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے وَ اِبْراهِيمَ الَّذِي وَفی ابراہیم وہ ہے جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کافروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھا کروں کی پوجا کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے لئے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ۔انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا۔ہر ایک ابتلاء کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔درمیان میں کوئی نفسانی غرض بہی تھی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 516)