حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 918
918 چودھویں فصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا اتباع اللہ تعالیٰ کی محبت کامل طور پر انسان اپنے اندر پیدا نہیں کر سکتا جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور طرز عمل کو اپنار ہبر اور ہادی نہ بناوے چنانچہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کی بابت فرمایا قُل اِنْ كُنْتُمُ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (ال عمران : 32) یعنی محبوب الہی بننے کے لیے ضروری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی جاوے۔سچی اتباع آپ کے اخلاق فاضلہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرنا ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 62) سید نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت و پیروی و تصدیق رسالت اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے اور ان انعامات کا وارث جو اگلے برگزیدہ انبیاء پر ہوئے چنانچہ فرمایا يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا (الانفال : 30) یعنی وہ تمہیں ایک فرقان دیگا۔پس دوسرے مذاہب اور اس میں ایک مابہ الامتیا ز اسی جہان میں ہونا ضروری ہے۔اللہ جل شانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے۔إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:5) ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 633) یعنی تو ایک بزرگ محلق پر قائم ہے سو اس تشریح کے مطابق اس کے معنے ہیں یعنی یہ کہ تمام تمیں اخلاق کی سخاوت، شجاعت، عدل، رحم احسان صدق حوصلہ وغیرہ تجھ میں جمع ہیں غرض جس قدر انسان کے دل میں قو تیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ادب حیا دیانت، مروت، غیرت استقامت عفت، زیادت اعتدال، مواسات یعنی ہمدردی ایسا ہی شجاعت، سخاوت، عفو صبر احسان صدق وفا وغیرہ جب یہ تمام طبعی حالتیں عقل اور تدبر کے مشورہ سے اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر کی جائیں گی تو سب کا نام اخلاق ہوگا اور یہ تمام اخلاق در حقیقت انسان کی طبعی حالتیں اور طبعی جذبات ہیں اور صرف اس وقت اخلاق کے نام سے موسوم ہوتے کہ جب محل اور موقع کے لحاظ سے بالا رادہ ان کو استعمال کیا جائے۔چونکہ انسان کے طبعی خواص میں سے ایک یہ بھی خاصہ ہے کہ وہ ترقی پذیر جاندار ہے اس لئے وہ بچے مذہب کی پیروی اور نیک صحبتوں اور نیک تعلیموں سے ایسے طبعی جذبات کو اخلاق کے رنگ میں لے آتا ہے اور یہ امر کسی اور جاندار کے لئے نصیب نہیں۔جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطف پر اسلامی اصول کی فلاسفی -رخ- جلد 10 صفحہ 334-333) ترا بیحد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ہم ہوئے خیر ام تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے (آئینہ کمالات اسلام-رخ- جلد 5 صفحہ 226-225 ) ( در شین اردو صفحہ 14-13)