حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 894 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 894

894 بارہویں فصل خدا کے لئے جینا اور مرنا کیفیات سالکین قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔(الانعام: 163) کہہ میری نماز میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لیے ہے اور جب انسان کی محبت خدا کے ساتھ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کا مرنا اور جینا اپنے لیے نہیں بلکہ خدا ہی کے لیے ہو جائے تب خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اسی لیے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔وہ اسی لیے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نوارانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر - خ - جلد 10 صفحہ 384 ) فَكِهِينَ بِمَا الهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ۔(الطور:19) وَوَقَهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ۔خدا ان کو جہنم کے آگ سے بچائے گا۔اس میں بھید یہ ہے کہ مومن متقی کا مرنا چارپایوں اور مویشیوں کی طرح نہیں ہوتا بلکہ مومن خدا کے لئے ہی جیتے ہیں اور خدا کے لئے مرتے ہیں اسلئے جو چیزیں وہ خدا کے لئے کھوتے ہیں وہ ان کو واپس دی جاتی ہیں جیسا کہ امام المؤمنین سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جلشانہ نے فرمایا۔قُلْ إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام: 163) یعنی کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔(ست بچن۔۔۔خ۔جلد 10 صفحہ 229) وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَيَشْفِينِ۔(الشعرا : 81) اصل میں انسان جوں جوں اپنے ایمان کو کامل کرتا ہے اور یقین میں پکا ہوتا جاتا ہے توں توں اللہ تعالیٰ اس کے واسطے خود علاج کرتا ہے اس کو ضرورت نہیں رہتی کہ دوائیں تلاش کرتا پھرے وہ خدا کی دوائیں کھاتا ہے اور خدا خود اس کا علاج کرتا ہے۔بھلا کوئی دعویٰ سے کہہ سکتا ہے کہ فلاں دوا سے فلاں مریض ضرور ہی شفا پا جاوے گا ہرگز نہیں بلکہ بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ دوا الٹا ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے۔بعض وقت تشخیص میں غلطی میں غلطی ہوتی ہے بعض وقت دواؤں کے اجزاء میں غلطی ہو جاتی ہے۔غرض حتمی علاج نہیں ہوسکتا۔ہاں خدا تعالیٰ جو علاج