حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 888 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 888

888 دسویں فصل صحبت صالحین يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ۔(التوبه: 119) شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے اسی لیے قرآن شریف فرماتا ہے یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِینَ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور ارتقاء کے مدارج کامل طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو کیونکہ اس کی صحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاس طیبہ عقد ہمت اور توجہ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لیے تیسرا پہلو جو قرآن سے ثابت ہے وہ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 163 ) صحبت صادقین ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گونُوا مَعَ الصَّدِقِینَ یعنی صادقوں کے ساتھ رہو۔صادقوں کی صحبت میں ایک خاص اثر ہوتا ہے ان کا نور صدق و استقلال دوسروں پر اثر ڈالتا ہے اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدددیتا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 208) صادقوں اور راست بازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے۔اس لیے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان کے گونُوا مَعَ الصَّدِقِین کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کودنیامیں بھیجتا ہے۔وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذ کر کر رہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں ہی سے ہے کیونکہ اِنَّهُمُ قَوْمٌ لَّا يَشْقَى جَلِيْسُهُمُ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کی صحبت سے کس قدر فائدے ہیں۔سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دور ہے۔غرض نفس مطمئنہ کی تاثیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اطمینان یافتہ لوگوں کی صحبت میں اطمینان پاتے ہیں۔امارہ والے میں نفس امارہ کی تاثیریں ہوتی ہیں اور لوامہ والے میں تو امہ کی تاثیر یں ہوتی ہیں۔اور جو شخص نفس مطمئنہ والے کی صحبت میں بیٹھتا ہے اس پر بھی اطمینان اور سکینت کے آثار ہونے لگتے ہیں اور اندر ہی اندر اسے تسلی ملنے لگتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 507)