حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 61
61 حضرت اقدس آسمانی معلم قرآن ہیں اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ إِنَّا لَهُ لَحفِظون (الحجر: 10) اس زمانہ میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم (الجمعة: 4) کا مصداق اور موعود ہے۔وہ وہی ہے جو تمھارے درمیان بول رہا ہے۔میں پھر رسول کریم ﷺ کی پیشین گوئی کی طرف عود کر کے کہتا ہوں کہ آپ نے اس زمانہ کی ہی بابت خبر دی تھی کہ لوگ قرآن کو پڑھیں گے لیکن وہ اُن کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔اب ہمارے مخالف نہیں نہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کی قدر نہ کرنے والے اور رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر دھیان نہ دینے والے خوب گلے مروڑ مروڑ کر يَا عِیسی إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ( آل عمران : 56) اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدہ:118) قرآن میں عجیب لہجہ سے پڑھتے ہیں، لیکن سمجھتے نہیں اور افسوس تو یہ ہے کہ اگر کوئی ناصح مشفق بن کر سمجھانا چاہے تو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 60) رض مسیح وقت اب دنیا میں آیا خدا نے عہد کا دن ہے دکھایا مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی سے ان کو ساقی نے پلا دی فسبحان الذي اخزى الاعادي بشیر احمد شریف احمد اور مبارکہ کی آمین مطبوعه 1900 ) ( در شین اردو صفحه 52) معلم قرآن کی ضرورت سچ تو یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کو نہیں پہنچانتا وہ قرآن کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ہاں یہ بات بھی درست ہے کہ قرآن ہدایت کیلئے نازل ہوا ہے مگر قرآن کی ہدایتیں اس شخص کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں جس پر قرآن نازل ہوا یا وہ شخص جو منجانب اللہ اس کا قائم مقام ٹھہرایا گیا اگر قرآن اکیلا ہی کافی ہوتا تو خدا تعالیٰ قادر تھا کہ قدرتی طور پر درختوں کے پتوں پر قرآن لکھا جاتا یا لکھا لکھایا آسمان سے نازل ہو جاتا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قرآن کو دنیا میں نہیں بھیجا جب تک معلم القرآن دنیا میں نہیں بھیجا گیا۔قرآن کریم کو کھول کر دیکھو کتنے مقام میں اس مضمون کی آیتیں ہیں کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ (الجمعة: 3) یعنے وہ نبی کریم ہ قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں کو سکھلاتا ہے اور پھر ایک جگہ اور فرماتا ہے وَلَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة :80) یعنے قرآن کے حقائق و دقائق انھیں پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کیلئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جسکو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحہ 347-348)