حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 870
870 کھول دینے کے لئے انبیاء علیہم السلام کا ایک سلسلہ دنیا میں قائم کیا۔اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا اور قادر ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی قسم کی امداد کی ضرورت ان رسولوں کو باقی نہ رہنے دے مگر پھر بھی ایک وقت ان پر آتا ہے کہ وہ نُ انصارِى إِلَى اللهِ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔کیا وہ ایک ٹکر گرا فقیر کی طرح بولتے ہیں؟ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللہ کہنے کی بھی ایک شان ہوتی ہے وہ دنیا کو ایک رعایت اسباب سکھانا چاہتے ہیں جو دعا کا ایک شعبہ ہے ورنہ اللہ تعالیٰ پر ان کو کامل ایمان اس کے وعدوں پر پورا یقین ہوتا ہے۔دنیا اور دنیا کی مدد یں ان لوگوں کے سامنے کلیت ہوتی ہیں اور مردہ کیڑے کے برابر بھی حقیقت نہیں رکھتی ہیں لیکن دنیا کو دعا کا ایک موٹا طریق بتلانے کے لئے وہ یہ راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔شرائط دعا (ریویو آف ریلیجنز جلد سوم نمبر 1 صفحہ 8-7) جب تو دعا کے لئے کھڑا ہو تو تجھے لازم ہے کہ یہ یقین رکھے۔کہ تیرا خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے۔تب تیری دعا منظور ہوگی۔اور تو خدا کی قدرت کے عجائبات دیکھے گا۔جو ہم نے دیکھے۔اور ہماری گواہی رویت سے ہے۔نہ بطور قصہ کے اس شخص کی دعا کیوں کر منظور ہو اور خود کیونکر اس کو بڑی مشکلات کے وقت جو اس کے نزدیک قانون قدرت کے مخالف ہیں دعا کرنے کا حوصلہ پڑے۔جو خدا کو ہر ایک چیز پر قادر نہیں سمجھتا۔۔‘“ کشتی نوح-ر-خ- جلد 19 صفحہ 21) قبولیت دعا کے واسطے چار شرطوں کا ہونا ضروری ہے تب کسی کے واسطے دعا قبول ہوتی ہے۔شرط اول یہ ہے کہ انقا ہو یعنی جس سے دعا کرائی جاوے وہ دعا کرنے والا متقی ہو۔دوسری شرط قبولیت دعا کے واسطے یہ ہے کہ جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو اس کے لیے دل میں درد ہو أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ۔تیسری شرط یہ ہے کہ وقت اصفی میسر آوے ایسا وقت کہ بندہ اور اس کے رب میں کچھ حائل نہ ہو۔۔۔۔چوتھی شرط یہ ہے کہ پوری مدت دعا کی حاصل ہو یہاں تک کہ خواب یا وحی سے اللہ تعالیٰ خبر دے۔محبت وا خلاص والے کو جلدی نہیں چاہیے بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہیے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 537-535) اصل دعا دین کے لئے ہے دنیا کے لیے جو دعا کی جاتی ہے وہ جہنم ہے۔دعا صرف خدا کو راضی کرنے اور گناہوں سے بچنے کی ہونی چاہیئے باقی جتنی دعائیں ہیں وہ خود اس کے اندر آ جاتی ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ بڑی دعا ہے صراط مستقیم گویا خدا کو شناخت کرنا ہے اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کل گناہوں سے بچنا ہے اور صالحین میں داخل ہونا ہے اگر ایک آدمی با خدا ہو تو سات پشت تک خدا تعالیٰ اس کی اولاد کی خبر گیری کرتا ہے۔۔۔۔دعا ایسی کرنی چاہیئے کہ نفس امارہ گداز ہو کر نفس مطمئنہ کی طرف آجاوے اگر وہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ( جیسے کہ معنے مذکور ہوئے ) طلب کرتا رہے گا تو دوسری جو اسے ضرورتیں ہیں جن کے لیے وہ دعا چاہتا ہے وہ خدا خود پوری کر دے گا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 603-602 بمعہ حاشیہ )