حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 867
867 وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ۔(البقرة : 156) میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔نون ثقیلہ کے ذریعہ جو اظہار تاکید کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ قضائے مُبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة : 157) ہی ہے اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے وہ اُدْعُونِی اَسْتَجِبْ لَكُمْ میں ظاہر کیا ہے۔پس مومن کو ان دونو مقامات کا پورا علم ہونا چاہیئے۔صوفی کہتے ہیں کہ فقر کامل نہیں ہوتا جب تک محل اور موقع کی شناخت حاصل نہ ہو بلکہ کہتے ہیں کہ صوفی دعا نہیں کرتا جب تک کہ وقت کو شناخت نہ کرے۔سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا کے ساتھ شقی سعید کیا جاتا ہے بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شدید الاختفاء امور مشبہ بالمبرم بھی دور کئے جاتے ہیں۔الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بھی اللہ تعالی انی منوانا چاہتا ہے اور بھی وہ مان لیتا ہے۔یہ معاملہ گویا دوستانہ معاملہ ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعاؤں کی ہے اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔آداب دعا ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 168-167) وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ۔الآية۔(البقرة : 156) خدا کی کتاب نے دعا کے بارہ میں یہ قانون پیش کیا ہے کہ وہ نہایت رحم سے نیک انسان کے ساتھ دوستوں کی طرح معاملہ کرتا ہے یعنی کبھی تو اپنی مرضی کو چھوڑ کر اس کی دعا سنتا ہے جیسا کہ خود فرمایا اُدْعُونى اسْتَجِبْ لَكُمْ اور کبھی کبھی اپنی مرضی ہی منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرمایا وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوع ایسا اس لیے کیا کہ تا کبھی انسان کی دعا کے موافق اس سے معاملہ کر کے یقین اور معرفت میں اس کو ترقی دے اور کبھی اپنی مرضی کے موافق کر کے اپنی رضا کی اس کو خلعت بخشے اور اس کا مرتبہ بڑھاوے اور اس سے محبت کر کے ہدایت کی راہوں میں اس کو ترقی دیوے۔(کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 21 حاشیہ ) ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔(المومن: 61) إِيَّاكَ نَعْبُدُ اور إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم کو ملایا ہے۔نعبد تو یہی ہے کہ بھلائی اور برائی کا خیال نہ رہے۔سلب امید دامانی ہو۔اور اِيَّاكَ نَسْتَعِینُ میں دعا کی تعلیم ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 299)