حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 856
856 اس سے بھی مراد تقی ہیں ثُمَّ اسْتَقَامُوا یعنی ان پر زلزلے آئے۔ابتلاء آئے۔آندھیاں چلیں مگر ایک عہد جو اس سے کر چکے اس سے نہ پھرے۔پھر آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب انہوں نے ایسا کیا اور صدق اور وفا دکھلائی تو اس کا اجر یہ ملا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلِئِكَةُ یعنی ان پر فرشتے اترے اور کہا کہ خوف اور حزن مت کرو تمہارا خدا متولی ہے وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ اور بشارت دی کہ تم خوش ہو اس جنت سے۔اور اس جنت سے یہاں مراد دنیا کی جنت ہے جیسے قرآن مجید میں ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّيْنِ (الرحمن: 47) پھر آگے ہے نَحْنُ اَوْلِيَقُ كُمُ فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ حم السجدة :32) دنیا اور آخرت میں ہم تمہارے ولی اور متکفل ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 559-558) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔یعنی اے ہمارے خدا تعالیٰ ! ہمیں استقامت کی راہ دکھلا۔وہی راہ جس پر تیرا انعام واکرام مترتب ہوتا ہے اور تو راضی ہو جاتا ہے۔اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ فرمایا۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِینَ۔(الاعراف: 127) اے خدا! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آجائے۔اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہئے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نورا تارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوت ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں۔جب با خدا آدمی پر بلائیں نازل ہوتی ہیں اور موت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے رب کریم سے خواہ نخواہ کا جھگڑا شروع نہیں کرتا کہ مجھے ان بلاؤں سے بچا۔کیونکہ اس وقت عافیت کی دعا میں اصرار کرنا خدا تعالیٰ سے لڑائی اور موافقت تامہ کے مخالف ہے۔بلکہ سچا محبت بلا کے اترنے سے اور آگے قدم رکھتا ہے۔اور ایسے وقت میں جان کو نا چیز سمجھ کر اور جان کی محبت کو الوداع کہکر اپنے مولیٰ کی مرضی کا بکلی تابع ہو جاتا ہے اور اس کی رضا چاہتا ہے۔اس کے حق میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ ط وَاللَّهُ رَءُ وُق بِالْعِبَادِ۔(البقره: 208) یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا تعالیٰ کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی۔جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے۔نتابد از ره جانان خود سر اخلاص براہِ یار عزیز از بلا نه پرهیزد اسلامی اصول کی فلاسفی رخ جلد 10 صفحہ 421-420) اگرچہ سیل مصیبت بزور ها باشد اگر چه در ره آن یار اژدہا باشد بدولت دو جہاں سرفرو نے آرند بعشق یار دل زار شاں دو تا باشد ترجمہ:- ایسے لوگ محبوب سے اخلاص کو قائم رکھتے ہیں۔خواہ مصیبت کا سیلاب تیزی سے آئے۔وہ اپنے محبوب کی راہ کو نہیں چھوڑتے۔اگر چہ اس راہ میں اثر دھا بیٹھا ہو وہ دونوں جہانوں کی دولت سے بے پرواہ ہوتے ہیں۔ان کا دل محبوب کے عشق میں دولخت ہوتا ہے۔( تریاق القلوب - - خ - جلد 15 صفحہ : 129)