حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 849
849 وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلاً۔(الاحزاب: 63) اللہ تعالیٰ ایک تبدیلی چاہتا ہے اور وہ پاکیزہ تبدیلی ہے جب تک وہ تبدیلی نہ ہو عذاب الہی سے رستگاری اور مخاصی نہیں ملتی۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک قانون اور سنت ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی کیونکہ خود اللہ تعالی نے ہی یہ فیصلہ کر دیا ہے وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلاً۔سنت اللہ میںکوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ آسمان میں اس کے لئے تبدیلی ہو یعنی وہ ان عذابوں اور دکھوں سے رہائی پائے جو شامت اعمال نے اس کیلئے تیار کئے ہیں اس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی کرے۔جب وہ خود تبدیلی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق جو اس نے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ (الرعد: 12) میں کیا ہے اس کے عذاب اور دکھ کو بدلا دیتا ہے اور دکھ کو سکھ سے تبدیل کر دیتا ہے۔حقیقی مجاہدہ (ملفوظات جلد چہارم صفحه 119) لَنْ يَّنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَ لَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى (الحج:38) ظاہری نماز اور روزہ اگر اس کے ساتھ اخلاص اور صدق نہ ہو کوئی خوبی اپنے اندر نہیں رکھتا جوگی اور سنیاسی بھی اپنی جگہ پر ریاضتیں کرتے ہیں۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اپنے ہاتھ تک سکھا دیتے ہیں اور بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے اور اپنے آپ کو مشکلات اور مصائب میں ڈالتے ہیں لیکن یہ تکالیف ان کو کوئی نور نہیں بخشیں اور نہ کوئی سکینیت اور اطمینان ان کو ملتا ہے بلکہ اندرونی حالت ان کی خراب ہوتی ہے وہ بدنی ریاضت کرتے ہیں جس کو اندر سے کم تعلق ہوتا ہے اور کوئی اثر ان کی روحانیت پر نہیں پڑتا۔اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَ لَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوى یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہاری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے۔حقیقت میں خدا تعالیٰ پوست کو پسند نہیں کرتا بلکہ وہ مغز چاہتا ہے۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ پہنچتا ہے تو پھر قربانی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اور اسی طرح نماز روزہ اگر روح کا ہے تو پھر ظاہر کی ضرورت کیا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ یہ بالکل پکی بات ہے کہ جو لوگ جسم سے خدمت لینا چھوڑ دیتے ہیں ان کو روح نہیں مانتی اور اس میں وہ نیاز مندی اور عبودیت پیدا نہیں ہو سکتی جو اصل مقصد ہے۔اور جو صرف جسم سے کام لیتے ہیں روح کو اس میں شریک نہیں کرتے وہ بھی خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں اور یہ جوگی اسی قسم کے ہیں۔روح اور جسم کا باہم خدا تعالیٰ نے ایک تعلق رکھا ہوا ہے اور جسم کا اثر روح پر پڑتا ہے۔۔۔غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔روح میں جب عاجزی پیدا ہوتی ہے پھر جسم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے جب روح میں واقع میں عاجزی اور نیازمندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخو دظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 697-696)