حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 848
پھر یہ الہام ہوا کہ 848 صادق آن باشد که ایام بلا ی گذارد با محبت باوفا یعنی خدا کی نظر میں صادق وہ شخص ہوتا ہے کہ جو بلا کے دنوں کو محبت اور وفا کے ساتھ گزارتا ہے۔پھر اس کے بعد میرے دل میں ایک اور موزوں کلمہ ڈالا گیا۔لیکن نہ اس طرح پر کہ جو الہام جلی کی صورت ہوتی ہے۔بلکہ الہام خفی کے طور پر دل اس مضمون سے پھر گیا۔اور وہ یہ تھا۔گر قضارا عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر را کز آشنا یعنی اگر اتفاقاً کوئی عاشق قید میں پڑ جائے۔تو اس زنجیر کو چومتا ہے۔جس کا سبب آشنا ہوا۔عملی مجامده ( تذکره صفحه 307) إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: 12) جب تک انسان مجاہدہ نہ کرے گا۔دعا سے کام نہ لے گا وہ ثمرہ جو دل پر پڑ جاتا ہے دور نہیں ہوسکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: 12) یعنی خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی آفت اور بلا کو جو قوم پر آتی ہے دور نہیں کرتا ہے جب تک خود قوم اس کو دور کرنے کی کوشش نہ کرے۔ہمت نہ کرے۔شجاعت سے کام نہ لے تو کیونکر تبدیلی ہو۔اللہ تعالیٰ کی ایک لا تبدیل سنت ہے جیسے فرمایا وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا (الاحزاب : 63)۔پس ہماری جماعت ہو یا کوئی ہو وہ تبدیل اخلاق اسی صورت میں کر سکتے ہیں جبکہ مجاہدہ اور دعا سے کام لیں ورنہ ممکن نہیں ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 87) وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَابْراهِيمُ۔قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءُ يَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ (الصافات 105-106) صوفیوں نے لکھا ہے کہ اوائل سلوک میں جور و یا ی وحی ہو اس پر توجہ نہیں کرنی چاہیئے وہ اکثر اوقات اس راہ میں روک ہو جاتی ہے۔انسان کی اپنی خوبی اس میں تو کوئی نہیں کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جو وہ کسی کو کوئی اچھی خواب دکھاوے یا کوئی الہام کرے اس نے کیا کیا؟ دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بہت وحی ہوا کرتی تھی لیکن اس کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ اس کو یہ الہام ہوا یہ وحی ہوئی بلکہ ذکر کیا گیا ہے تو اس بات کا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى وه ابراہیم جس نے وفاداری کا کامل نمونہ دکھایا یا یہ کہ پابُراهِيمُ۔قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءُ يَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ۔(الصافات (106) یہ بات ہے جو انسان کو حاصل کرنی چاہئے اگر یہ پیدا نہ ہو تو پھر رویا والہام سے کیا فائدہ؟ مومن کی نظر ہمیشہ اعمال صالحہ پر ہوتی ہے اگر اعمال صالحہ پر نظر نہ ہو تو اندیشہ ہے کہ وہ مکر اللہ کے نیچے آجائے گا۔ہم کو تو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو راضی کریں اور اس کے لئے ضرورت ہے اخلاص کی صدق دوفا کی۔نہ یہ کہ قیل و قال تک ہی ہماری ہمت و کوشش محدود ہو۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 637)