حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 837
837 دوسری حالت پھر اس کے بعد دوسری حالت یہ ہے کہ ایسے مومن کو خدا تعالیٰ کی طرف کچھ رجوع تو ہو جاتا ہے مگر اس رجوع کے ساتھ لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو شغلوں کی پلیدی لگی رہتی ہے جس سے وہ اُنس اور محبت رکھتا ہے۔ہاں کبھی نماز میں خشوع کے حالات بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں۔لیکن دوسری طرف لغو حرکات بھی اس کے لازم حال رہتی ہیں اور لغو تعلقات اور لغو مجلسیں اور لغو ہنسی ٹھٹھا اس کے گلے کا ہار رہتا ہے۔گویا وہ دور نگ رکھتا ہے کبھی کچھ کبھی کچھ۔واعظاں میں جلوہ بر محراب و منبر می کند چوں بخلوت مے رونداں کارِ دیگر می کنند ترجمہ : واعظ جو محراب اور ممبر پر چڑھ کر تقریریں کرتے ہیں جب خلوت میں جاتے ہیں تو غلط کام کرنے لگتے ہیں۔پھر جب عنایت الہیہ اس کو ضائع کرنا نہیں چاہتی تو پھر ایک اور جلوہ عظمت اور ہیبت اور جبروت الہی کا اس کے دل پر نازل ہوتا ہے جو پہلے جلوہ سے زیادہ تیز ہوتا ہے اور قوت ایمانی اس سے تیز ہو جاتی ہے اور ایک آگ کی طرح مومن کے دل پر پڑ کر تمام خیالات لغو اس کے ایک دم میں بھسم کر دیتی ہے۔اور یہ جلوہ عظمت اور جبروت الہی کا اس قدر حضرت عزت کی محبت اس کے دل میں پیدا کرتا ہے کہ لغو کاموں اور لغوشغلوں کی محبت پر غالب آ جاتا ہے اور ان کو دفع اور دور کر کے ان کی جگہ لے لیتا ہے۔اور تمام بیہودہ شغلوں سے دل کو سرد کر دیتا ہے تب لغو کاموں سے دل کو ایک کراہت پیدا ہو جاتی ہے۔براهین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 236-235) تیسری حالت پھرلغوشغلوں اور لغو کاموں کے دور ہونے کے بعد ایک تیسری خراب حالت مومن میں باقی رہ جاتی ہے جس سے وہ دوسری حالت کی نسبت بہت محبت رکھتا ہے یعنی طبعا مال کی محبت اس کے دل میں ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی اور آرام کا مدار مال کو ہی سمجھتا ہے اور نیز اس کے حاصل ہونے کا ذریعہ صرف اپنی محنت اور مشقت خیال کرتا ہے۔پس اس وجہ سے اس پر خدا تعالیٰ کی راہ میں مال کا چھوڑ نا بہت بھاری اور تلخ ہوتا ہے۔پھر جب عنایت الہیہ اس ورطہ عظیمہ سے اس کو نکالنا چاہتی ہے تو رازقیت الہیہ کا علم اس کو عطا کیا جاتا ہے اور تو کل کا بیج اس میں بویا جاتا ہے اور ساتھ اس کے ہیبت الہیہ بھی کام کرتی ہے اور دونوں تجلیات جمالی اور جلالی اس کے دل کو اپنے قابو میں لے آتی ہیں۔تب مال کی محبت بھی دل میں سے بھاگ جاتی ہے اور مال دینے والے کی محبت کا تختم دل میں بویا جاتا ہے اور ایمان قوی کیا جاتا ہے۔(براہین احمدیہ پنجم۔رخ۔جلد 21 صفحہ 236)