حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 838
838 چوتھی حالت پھر بعد اس کے چوتھی حالت ہے جس سے نفس امارہ بہت ہی پیار کرتا ہے۔اور جو تیسری حالت سے بدتر ہے۔کیونکہ تیسری حالت میں تو صرف مال کا اپنے ہاتھ سے چھوڑنا ہے۔مگر چوتھی حالت میں نفس امارہ کی شہوات محتر مہ کو چھوڑنا ہے۔اور ظاہر ہے کہ مال کا چھوڑنا بہ نسبت شہوات کے چھوڑنے سے انسان پر طبعا سہل ہوتا ہے۔اس لئے یہ حالت بہ نسبت حالت گذشتہ کے بہت شدید اور خطرناک ہے اور فطرتا انسان کو شہوات نفسانیہ کا تعلق بہ نسبت مال کے تعلق کے بہت پیارا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ مال کو جو اس کے نزدیک مدار آسائش ہے بڑی خوشی سے شہوات نفسانیہ کی راہ میں فدا کر دیتا ہے۔اور اس حالت کے خوفناک جوش کی شہادت میں یہ آیت کافی ہے۔وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا اَنْ رَّا بُرْهَانَ رَبِّهِ (يوسف : 25) یعنی یہ ایسا منہ زور جوش ہے کہ اس کا فرو ہونا کسی برہان قومی کا محتاج ہے۔پس ظاہر ہے کہ درجہ چہارم پر قوت ایمانی بہ نسبت درجہ سوم کے بہت قوی اور زبردست ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت اور جبروت کا مشاہدہ بھی پہلے کی نسبت اس میں زیادہ ہوتا ہے پانچویں حالت (براہین احمدیہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 237) پھر چوتھی حالت کے بعد پانچویں حالت ہے جس کے مفاسد سے نہایت سخت اور شدید محبت نفس امارہ کو ہے۔کیونکہ اس مرتبہ پر صرف ایک لڑائی باقی رہ جاتی ہے اور وہ وقت قریب آ جاتا ہے کہ حضرت عزت جلشانہ کے فرشتے اس وجود کی تمام آبادی کو فتح کرلیں اور اس پر اپنا پورا تصرف اور دخل کر لیں اور تمام نفسانی سلسلہ کو درہم برہم کر دیں۔اور نفسانی قومی کے قریہ کو ویران کر دیں۔اور اس کے نمبر داروں کو ذلیل اور پست کر کے دکھلاویں اور پہلی سلطنت پر ایک تباہی ڈال دیں۔اور انقلاب سلطنت پر ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔اِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً اَفْسَدُوُهَا وَجَعَلُوا اَعِزَّةَ اَهْلِهَا اَذِلَّةً وَ كَذلِكَ يَفْعَلُونَ (النمل: 35) اور یہ مومن کیلئے ایک آخری امتحان اور آخری جنگ ہے جس پر اس کے تمام مراتب سلوک ختم ہو جاتے اور اس کا سلسلہ ترقیات جو کسب اور کوشش سے ہے انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔اور انسانی کوششیں اپنے اخیر نقطہ تک منزل طے کر لیتی ہیں۔پھر بعد اس کے صرف موہبت اور فضل کا کام باقی رہ جاتا ہے جو خلق آخر کے متعلق ہے۔(براہین احمدیہ پنجم۔رخ۔جلد 21 صفحہ 238)