حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 827
827 چوتھی فصل وحی والہام خدا کا وعدہ ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الانهرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدَاء وَعْدَ اللَّهِ حَقًّاء وَ مَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا (النساء: 123) اگر خدا کی طرف سے ہمیشہ چپ چاپ ہی ہو تو پھر اگر خدا کی راہ میں کوئی محنت بھی کرے تو کس بھروسہ پر۔کیا وہ اپنے ہی تصورات کو خدا کے وعدے قرار دے سکتا ہے ہر گز نہیں جس کا ارادہ ہی معلوم نہیں کہ وہ کونسا بدلہ دیگا اور کیونکر دیگا اور کب تک دیگا اس کے کام پر کون خود بخود پختہ امید کر سکتا ہے اور ناامیدی کی حالت میں کیونکر محنتوں اور کوششوں پر دل لگا سکتا ہے انسان کی کوششوں کو حرکت دینے والے اور انسان کے دل میں کامل جوش پیدا کرنے والے خدا کے وعدے ہیں انہیں پر نظر کر کے عقلمند انسان اس دنیا کی محبت کو چھوڑتا ہے اور ہزاروں پیوندوں اور تعلقوں اور زنجیروں سے خدا کے لیے الگ ہو جاتا ہے و ہی وعدے ہیں کہ جو ایک آلودہ حرص و ہوا کو ا یکبارگی خدا کی طرف کھینچ لاتے ہیں جبھی کہ ایک شخص پر یہ بات کھل جاتی ہے کہ خدا کا کلام برحق ہے اور اس کا ہر یک وعدہ ضرور ایک دن ہونے والا ہے تو اسی وقت دنیا کی محبت اس پر سرد ہو جاتی ہے ایک دم میں وہ کچھ اور ہی چیز ہو جاتا ہے اور کسی اور ہی مقام پر پہنچ جاتا ہے خلاصہ کلام یہ کہ کیا ایمان کے رو سے اور کیا عمل کے رو سے اور کیا جزا سزا کی امید کے رو سے کھلا ہوا اور مفتوح دروازہ خدا کے بچے الہام اور پاک کلام کا دروازہ ہے ویس۔کلامِ پاک آن بیچون دهد صد جامِ عرفان را کسے کو بیخبر زان می چه داند ذوق ایمان را نه چشم است آنکه در کوری ہمہ عمرے بسر کر دست نه گوش ست آنکه نه شنیدست گا ہے قولِ جانان را ( ترجمہ:۔اس لیگا نہ کا کلام عرفان کے جام پلاتا ہے۔جس کو یہ علم نہیں اس کو ایمان کا ذوق نہیں۔وہ کیا آنکھ ہے جس نے اندھے پن میں زندگی گزار دی اور وہ کیا کان ہے جس نے کبھی محبوب کی بات نہیں سنی۔) (براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 223-222 حاشیہ) وحی والہام سچے مذہب کی نشانی ہے ہے غضب کہتے ہیں اب وہی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار یہ عقیده برخلاف گفته دادار ہے ! پر اتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار