حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 820 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 820

820 الا بذكرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (الرعد: 29) قرآن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ایسی شئے ہے جو قلوب کو اطمینان عطا کرتا ہے جیسا کہ فرمایا۔آلا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب۔پس جہاں تک ممکن ہو ذکر الہی کرتا رہے اسی سے اطمینان حاصل ہو گا ہاں اس کے واسطے صبر اور محنت درکار ہے۔اگر گھبرا جاتا اور تھک جاتا ہے تو پھر یہ اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 240 239) أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوب اس کے عام معنی تو یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب اطمینان پاتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اور فلاسفی یہ ہے کہ جب انسان بچے اخلاص اور پوری وفاداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اور ہر وقت اپنے آپ کو اس کے سامنے یقین کرتا ہے۔اس سے اس کے دل پر ایک خوف عظمت الہی کا پیدا ہوتا ہے۔وہ خوف اس کو مکروہات اور منہیات سے بچاتا ہے اور انسان تقویٰ اور طہارت میں ترقی کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ اس پر نازل ہوتے ہیں اور وہ اس کو بشارتیں دیتے ہیں اور الہام کا دروازہ اس پر کھولا جاتا ہے اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھ لیتا ہے اور اس کی وراء الوراء طاقتوں کو مشاہدہ کرتا ہے۔پھر اس کے دل پر کوئی ہم وعم نہیں آسکتا اور طبیعت ہمیشہ ایک نشاط اور خوشی میں رہتی ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 356 355 ) درود شریف اور محبت الہی یہاں ایک اور بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے وفات پا جانا تھا اس لیے ظاہری طور پر ایک نمونہ اور خدا نمائی کا آلہ دنیا سے اٹھنا تھا اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک آسان راہ رکھ دی کہ قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِی۔کیونکہ محبوب اللہ مستقیم ہی ہوتا ہے۔زیغ رکھنے والا کبھی محبوب نہیں بن سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ازدیاد اور تجدید کے لیے ہر نماز میں درودشریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا۔تا کہ اس دعا کی قبولیت کے لیے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 38) ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ درود شریف کے پڑھنے میں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے میں ایک زمانہ تک مجھے بہت استغراق رہا۔کیونکہ میرا یقین تھا کہ خدا تعالیٰ کی راہیں نہایت دقیق راہیں ہیں وہ بجز وسیلہ نبی کریم کے مل نہیں سکتیں۔جیسا کہ خدا بھی فرماتا ہے وابتغوا الیه الوسيلة (المائدة: 36) تب ایک مدت کے بعد کشفی حالت میں میں نے دیکھا کہ دوستے یعنی ماشکی آئے اور ایک اندرونی راستے سے اور ایک بیرونی راہ سے میرے گھر میں داخل ہوئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر نور کی مشکیں ہیں اور کہتے ہیں هـذا بـمـا صليت على محمد۔منہ (حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 131 حاشیہ ) ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 77)