حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 817
817 آنکه اورا ظلمت گیرد براہ نیستش چوں روئے احمد مہر و ماہ وہ شخص جسے تاریکی گھیر لے اس کے لیے احمد کے چہرہ کی طرح اور کوئی چاند سورج نہیں ہے۔تا بعش بحر معافی مے شود از زمینی آسمانی می شود اس کا پیر ومعرفت کا ایک سمندر بن جاتا ہے اور زمینی سے آسمانی ہو جاتا ہے۔انبیاء را شد مثیل آں محترم ہر که در راه محمد زد قدم جس نے محمد کے طریقہ پر قدم مارا۔وہ قابل عزت شخص نبیوں کا مثیل بن جاتا ہے۔تو عجب داری نیز فوز این مقام پائی بند نفس گشته صبح و شام تو اس درجہ کی کامیابی پر تعجب کرتا ہے کیونکہ تو ہر وقت اپنے نفس کا غلام ہے۔(ضیاءالحق۔۔۔خ۔9 صفحہ 254) حضرت اقدس نے یہ مقام آنحضرت کی پیروی سے پایا میں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لیے اس نعمت کا پا ناممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا۔میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پاسکتا ہے۔اور میں اس جگہ یہ بھی بتلاتا ہوں کہ وہ کیا چیز ہے کہ بچی اور کامل پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب باتوں سے پہلے دل میں پیدا ہوتی ہے سو یا در ہے کہ وہ قلب سلیم ہے یعنی دل سے دنیا کی محبت نکل جاتی ہے اور دل ایک ابدی اور لازوال لذت کا طالب ہو جاتا ہے پھر بعد اس کے ایک مصفی اور کامل محبت الہی باعث اس قلب سلیم کے حاصل ہوتی ہے اور یہ سب نعمتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران : 32) یعنی ان کو کہدے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے بلکہ یکطرفہ محبت کا دعوی بالکل ایک جھوٹ اور لاف و گزاف ہے جب انسان سچے طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اس سے محبت کرتا ہے تب زمین پر اس کے لیے ایک قبولیت پھیلائی جاتی ہے اور ہزاروں انسانوں کے دلوں میں ایک سچی محبت اس کی ڈال دی جاتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ۔جلد 22 صفحہ 65-64)