حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 813
813 قرب الہی کا واسطہ قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ہر ایک شخص کو خود بخود خدا سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں اس کے واسطے واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہو گا انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہو جاؤ قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے قُلُ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ (الزمر: 54) اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں۔نہ کہ مخلوق۔رسول کریم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو۔سب حکموں پر کار بند ر ہو جیسے کہ حکم ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران :32) اگر تم خدا سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم کی راہ میں فنا ہو جاؤ تب خدا تم سے محبت کریگا۔کل انبیاء اولیاء۔اتقیا۔اور صالحین کا ایک یہ مجموعی مسئلہ ہے کہ پاک کرنا خدا کا کام ہے اور خدا کے اس فضل کے جذب کے واسطے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم از بس ضروری اور لازمی ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران : 32) سورج دنیا میں موجود ہے مگر چشم بینا بھی تو چاہئے۔خدا تعالیٰ کا قانون قدرت لغو اور بے فائدہ نہیں ہے۔جو ذرائع کسی امر کے حصول کے خدا نے بنائے ہیں آخر انہیں کی پابندی سے وہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔کان سننے کے واسطے خدا نے بنائے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے۔آنکھ جود یکھنے کے واسطے بنائی گئی ہے وہ سنے کا کام نہیں کر سکتی۔بس اسی طرح خدا کے فضل کے فیضان کے حصول کی جو راہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے اس سے باہر رہ کر کیسے کوئی کامیاب ہو سکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 234 233 ) حقیقی پاکیزگی اور طہارت ملتی ہے اتباع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکہ خود خدا نے فرما دیا کہ اگر خدا کے محبوب بنا چاہتے ہو تو رسول کی پیروی کرو۔پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہمیں کسی نبی یا رسول کی کیا ضرورت ہے وہ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔محمد پر ہماری جاں فدا ہے کہ وہ کوئے صنم کا راہ نما ہے ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 564)