حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 55
55 ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس امت کیلئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر خلافت دائی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دینا کیا معنی رکھتا تھا اور اگر خلافت راشدہ صرف تمہیں برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کیلئے اس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر گز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کیلئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کیلئے ہر گز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ توارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔افسوس کہ ایسے خیال پر جمنے والے خلیفہ کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم ہوتا ہے تدبر سے نہیں سوچتے کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جوظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کا حل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کیلئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولی ہیں ظلمی طور پر ہمیشہ کیلئے تا قیامت قائم رکھے۔سواسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا بھی او کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے۔پس جو شخص خلافت کو صرف تمہیں برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے۔آنکه وہ شخص تابعش ہر کہ شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 353-352) ظلمتی گیرد براه نیستش چون روئے احمد مہر و ماہ جسے تاریکی گھیر لے اس کیلئے احمد کے چہرہ کی طرح اور کوئی چاند سورج نہیں ہے أورا در بحر معافی شود از زمینی آسمانی شود ہو جاتا ہے اس کا پیرو معرفت کا ایک سمندر بن جاتا ہے اور زمینی سے آسمانی راه محمد زد قدم انبیاء شد مثیل آں محترم جس نے محمد کے طریقہ پر قدم مارا وہ قابل عزت شخص نبیوں کا مثیل بن جاتا ہے تو عجب داری ز فوز این مقام پانی بند نفس گشته صبح تو اس درجہ کی کامیابی پر تعجب کرتا , شام ہے کیونکہ تو ہر وقت اپنے نفس کا غلام ہے (ضیاء الحق - ر - خ جلد 9 صفحہ 255 254)