حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 808
808 قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسَكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَ اللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ۔(التوبه: 24) یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہاری برادری اور تمہارے وہ مال جو تم نے محنت سے کمائے ہیں اور تمہاری سوداگری جس کے بند ہونے کا تمہیں خوف ہے اور تمہاری حویلیاں جو تمہارے دل پسند ہیں خدا سے اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں اپنی جانوں کو لڑانے سے زیادہ پیارے ہیں تو تم اس وقت تک منتظر رہو کہ جب تک خدا اپنا حکم ظاہر کرے اور خدا بد کاروں کو کبھی اپنی راہ نہیں دکھائے گا۔ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کی مرضی کو چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور مالوں سے پیار کرتے ہیں وہ خدا کی نظروں میں بدکار ہیں۔وہ ضرور ہلاک ہوں گے کیونکہ انہوں نے غیر کو خدا پر مقدم رکھا۔یہی وہ تیسرا مرتبہ ہے جس میں وہ شخص با خدا بنتا ہے جو اس کے لیے ہزاروں بلائیں خریدے اور خدا کی طرف ایسے صدق اور اخلاص سے جھک جائے کہ خدا کے سوا کوئی اس کا نہ رہے گویا سب مر گئے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ - جلد 10 صفحہ 383-382) سینہ مے باید تهی از غیر یار ! دل ہے باید پر از یاد نگار ! یار کے سوا ہر چیز سے سینہ خالی ہونا چاہیئے اور دل محبوب کی یاد سے بھرا رہنا چاہیئے۔جاں ہے باید براه او فدا سر ہے باید بپائے او ثار جان اس کی راہ میں قربان ہونی چاہیئے اور سر اُس کے قدموں میں شمار ہونا چاہیئے۔وار بیچ دانی چیست دین عاشقاں گویمت گربشنوی عشاق کیا تجھے معلوم ہے کہ عاشقوں کا دین کیا ہوتا ہے؟ میں تجھے بتا تا ہوں اگر تو عاشقوں کی طرح سنے۔لوح دل شستن ز غیر دوستدار عالم فرو بستن نظر ہمہ از وہ یہ ہے کہ سارے جہاں کی طرف سے آنکھ بند کر لینا اور دوست کے سوا ہر چیز سے دل کی سختی کو دھوڈالنا۔( در شین فارسی مترجم صفحه 150) (سرمه چشم آریہ - ر-خ- جلد 2 صفحہ 258 حاشیہ)