حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 782
782 خلق اور امر الا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ) جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ پہلے اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طرز پیدائش کا نام خلق ہے خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہے الا لَهُ الْخَلْقُ وَالأمر (الاعراف: 55) یعنی بسائط کا عدم محض سے پیدا کرنا اور مرکبات کو ظہور خاص میں لانا دونوں خدا کا فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے تعالے کی پیدائش ہے۔یہ کیسی اعلیٰ اور عمدہ صداقت ہے جس کو ایک مختصر آیت اور چند معدود لفظوں میں خدائے تعالیٰ نے بیان کر دیا۔سرمه چشم آریہ۔ر-خ- جلد 2 صفحہ 176-175) رَبُوَة وَاوَيُنهُمَا إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِينٍ (المومنون : 51) یعنی ہم نے واقعہ صلیب کے بعد جو ایک بڑی مصیبت تھی عیسی اور اس کی ماں کو ایک بڑے ٹیلہ پر جگہ دی جو بڑے آرام کی جگہ اور پانی خوشگوار تھا یعنی خطہ کشمیر۔اب اگر آپ لوگوں کو عربی سے کچھ بھی مس ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اوای کا لفظ اسی موقع پر آتا ہے کہ جب کسی مصیبت پیش آمدہ سے بچا کر پناہ دی جاتی ہے۔یہی محاورہ تمام قرآن شریف میں اور تمام اقوال عرب میں اور احادیث میں موجود ہے۔( نزول امسیح۔۔۔خ۔جلد 19 صفحہ 127 ) رفع اور رجوع تمام قرآن میں یہی محاورہ ہے کہ خدا کی طرف اٹھائے جانے یا رجوع کرنے سے موت مراد ہوتی ہے جیسا کہ آیت ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر : 29) سے بھی موت ہی مراد ہے۔امام اصلح - ر - خ - جلد 14 صفحہ 385) رَفَع پس جب خدا تعالیٰ کی طرف واپس جانا بموجب نص صریح قرآن شریف کے موت ہے تو پھر خدا کی طرف اٹھائے جانا جیسا کہ آیت بَلْ رَفَعَهُ اللهُ الَیہ سے ظاہر ہوتا ہے۔کیوں موت نہیں۔یہ تو انصاف اور عقل اور تقوی کے برخلاف ہے کہ جو معنے نصوص قرآنیہ سے ثابت اور متحقق ہوتے ہیں ان کو ترک کیا جائے اور جن معنوں اور جس محاورہ کی اپنے پاس کوئی بھی دلیل نہیں اس پہلو کو اختیار کیا جائے۔کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ رفع الی اللہ کے زبان عرب اور محاورہ عرب میں بجز وفات دیئے جانے کے کوئی اور بھی معنے ہیں۔ہاں اس وفات سے ایسی وفات مراد ہے جس کے بعد روح خد تعالی کی طرف اٹھائی جاتی ہے جیسے مومنوں کی وفات ہوتی ہے۔یہی محاورہ خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں موجود ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 386-385)