حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 783 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 783

783 زمین اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کی باطنی قومی مراد ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے۔اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد: 18 ) اور جیسا کہ فرماتا ہے وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِى خَبُثَتْ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا (الاعراف: 59) ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں ماسوا اس کے روحانی واعظوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آ جاتے ہیں اور نیک اور بدلوگ اپنی سزا و جزاء پالیتے ہیں۔سواگر سورۃ الزلزال کو قیامت کے آثار میں قرار دیا جائے تو اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایسا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے۔خدائے تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے قیامت کا ہی روپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہوسکتا ہے جس کے آنے سے روحانی مردے زندہ ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب ایسا زمانہ آ جائے گا۔کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھائیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کا پروازممکن ہے اس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کو ابتداء سے ظاہر کرنا مقدر ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پورا ہوکر یک دفعہ اس کی صف لپیٹ دی جائے گی۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَان۔ويَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ۔(الرحمن: 27-28) شقی اور سعید (ازالہ اوھام -ر خ- جلد 3 صفحہ 168-169) يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ۔(هود: 106) ایسا شخص جور بانی فیض کے رنگ سے کم حصہ رکھتا ہے اس کو قرآنی اصطلاح میں شقی کہتے ہیں اور جس نے کافی حصہ لیا اس کا نام سعید ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام میں مخلوقات کو سعادت اور شقاوت کے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے مگر ان کو حسن اور فتح کے دوحصوں پر تقسیم نہیں کیا۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جو خدا تعالیٰ سے صادر ہو اس کو برا تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس نے جو کچھ بنایا وہ سب اچھا ہے۔ہاں اچھوں میں مراتب ہیں۔پس جو شخص اچھا ہونے کے رنگ میں نہایت ہی کم حصہ رکھتا ہے وہ حکمی طور پر برا ہے اور حقیقی طور پر کوئی بھی برا نہیں۔ست بچن۔رخ۔جلد 10 صفحہ 138 حاشیہ )