حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 775 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 775

775 کشوف کے ذریعے سے اور دوسرے آسمانی نشانوں کے وسیلہ سے یقین کامل تک اس کو پہنچا تا ہے لیکن متعصب آدمی جو عناد سے پر ہوتا ہے ایسا نہیں کرتا اور وہ ان امور کو جو حق کے پہچاننے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں تحقیر اور توہین کی نظر سے دیکھتا ہے اور ٹھٹھے اور جنسی میں ان کو اڑادیتا ہے اور وہ امور جو ہنوز اس پر مشتبہ ہیں ان کو اعتراض کرنے کی دستاویز بنا تا ہے اور ظالم طبع لوگ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔چنانچہ ظاہر ہے کہ ہر ایک نبی کی نسبت جو پہلے نبیوں نے پیشگوئیاں کیں ان کے ہمیشہ دو حصے ہوتے رہے ہیں۔ایک بینات اور محکمات جن میں کوئی استعارہ نہ تھا اور کسی تاویل کی محتاج نہ تھیں اور ایک متشابہات جو محتاج تاویل تھیں اور بعض استعارات اور مجازات کے پردے میں محجوب تھیں پھر ان نبیوں کے ظہور اور بعثت کے وقت جو ان پیشگوؤں کے محتاج تھے دو فریق ہوتے رہے ہیں۔ایک فریق سعیدوں کا جنہوں نے بینات کو دیکھ کر ایمان لانے ہیں تاخیر نہ کی اور جو حصہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا آئندہ کے منتظر رہے اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھوکر نہ کھائی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 475-474) تعریف آیات محکمات و متشابہات پھر یہ بھی واضح ہو کہ قرآن شریف میں دو قسم کی آیات ہیں ایک محکمات اور بینات جیسا کہ یہ آیت ان الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ اَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَ رُسُلِهِ وَ يَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا۔أُولئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا۔(النساء:152-151) یعنی جو لوگ ایسا ایمان لانا نہیں چاہتے جو خدا پر بھی ایمان لاوے اور اس کے رسول پر بھی اور چاہتے ہیں کہ خدا کو اس کے رسولوں سے علیحدہ کر دیں اور کہتے ہیں کہ بعض پر ہم ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں یعنی خدا پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر نہیں یا بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر نہیں اور ارادہ کرتے ہیں کہ بین بین راہ اختیار کر لیں یہی لوگ واقعی طور پر کافر اور پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔یہ تو آیات محکمات ہیں جن کی ہم ایک بڑی تفصیل بھی لکھ چکے ہیں۔دوسری قسم کی آیات متشابہات ہیں جن کے معنے باریک ہوتے ہیں اور جو لوگ راسخ فی العلم ہیں ان لوگوں کو ان کا علم دیا جاتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ آیات محکمات کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور محکمات کی علامت یہ ہے کہ محکمات آیات خدا تعالیٰ کے کلام میں بکثرت موجود ہیں اور خدا تعالیٰ کا کلام ان سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور ان کے معنے کھلے کھلے ہوتے ہیں اور انکے نہ ماننے سے فسادلازم آتا ہے مثلاً اسی جگہ دیکھ لو کہ جو شخص محض خدا تعالے پر ایمان لاتا ہے اور اس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتا اس کو خدا تعالیٰ کی صفات سے منکر ہونا پڑتا ہے۔مثلاً ہمارے زمانہ میں برہمو جو ایک نیا فرقہ ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں مگر نبیوں کو نہیں مانتے وہ خدا تعالیٰ کے کلام سے منکر ہیں اور ظاہر ہے اگر خدا تعالیٰ سنتا ہے تو بولتا بھی ہے۔پس اگر اس کا بولنا ثابت نہیں تو سنا بھی ثابت نہیں۔اس طرح پر ایسے لوگ صفات باری سے انکار کر کے