حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 768 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 768

768 اور پھر فرماتا ہے۔اللہ نزل احسن الحديث كتابا متشابها مثاني تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم ثم تلين جلودهم و قلوبهم الى ذكر الله (الزمر: 24)۔۔۔۔۔اب ان تمام محامد سے جو قرآن کریم اپنی نسبت بیان فرماتا ہے صاف اور صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد عظیمہ کی آپ تفسیر فرماتا ہے۔اور اسکی بعض آیات بعض کی تفسیر واقع ہیں یہ نہیں کہ وہ اپنی تفسیر میں بھی حدیثوں کا محتاج ہے۔بلکہ صرف ایسے امور جو سلسلہ تعامل کے محتاج تھے وہ اسی سلسلہ کے حوالہ کر دئیے گئے ہیں اور ماسوا ان امور کے جس قدرا مور تھے انکی تفسیر بھی قرآن کریم میں موجود ہے۔ہاں باوجود اس تفسیر کے حدیثوں کے رو سے بھی عوام کے سمجھانے کیلئے جو لا یمسہ کے گروہ میں داخل ہیں زیادہ تر وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔لیکن جو اس امت میں الا المطهرون کا گروہ ہے۔وہ قرآن کریم کی اپنی تفسیروں سے کامل طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے لیکن اس کا زیادہ لکھنا چنداں ضروری نہیں۔الحق - بحث لدھانہ جلد 4 صفحہ 38-37) اور پھر فرماتا ہے۔اللہ نزل احسن الـحـديـث كتـابـا متسابها مثاني تقشعر منه جلود الذين يخشون ربهم ثم تلين جلودهم و قلوبهم الى ذكر الله (الزمر : 24) یعنی ذالک الکتب کتاب متشابه يشبه بعضه بعضاليس فيه تناقض ولا اختلاف مثنى فيه كل ذكر ليكون بعض الذكر تفسيرا لبعضه۔ترجمہ :۔یعنے یہ کتاب متشابہ ہے جسکی آیتیں اور مضامین ایکدوسرے سے ملتے جلتے ہیں انمیں کوئی تناقص اور اختلاف نہیں ہر ذکر اور وعظ آسمیں دو ہر دو ہرا کر بیان کی گئی ہے جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔الحق بحث لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 38-37) اس بات کو کبھی بھولنا نہیں چاہیئے کہ قرآن شریف کے بعض حصہ دوسرے کی تفسیر اور شرح ہیں ایک جگہ ایک امر بطریق اجمال بیان کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ وہی امر کھول کر بیان کر دیا گیا ہے گویا دوسرا پہلے کی تفسیر ہے۔پس اس جگہ جو یہ فرمایا۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ تو یہ بطریق اجمال ہے لیکن دوسرے مقام پر منعم علیہم کی خود ہی تفسیر کر دی ہے مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ (النساء: 70 ) منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں نبی۔صدیق۔شہدا اور صالح۔انبیاء علیہم السلام میں چاروں شانیں جمع ہوتی ہیں کیونکہ یہ اعلی کمال ہے۔ہر ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کمالات کے حاصل کرنے کے لیے جہاں مجاہدہ صحیحہ کی ضرورت ہے اس طریق پر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کوشش کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 236) یہودیوں کی کارستانیوں کا نمونہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ انہوں نے کلام الہی میں تحریف اور الحاد اختیار کر کے کیا نام رکھا یا قرآن کریم کی کسی آیت کے ایسے معنے کرنے چاہیئے کہ جو صد ہا دوسری آیات سے جو اسکی تصدیق کیلئے کھڑی ہوں مطابق ہوں اور دل مطمئن ہو جائے اور بول اٹھے کہ ہاں یہی منشاء اللہ جل شانہ کا اسکے پاک کلام میں سے یقینی طور سے ظاہر ہوتا ہے۔یہ سخت گناہ اور معصیت کا کام ہے کہ ہم قرآن کریم کی ایسی دور از حقیقت تاویلیں کریں کہ گویا ہم اسکے عیب کی پردہ پوشی کر رہے ہیں یا اسکو وہ باتیں جتلا رہے ہیں جو اسکو معلوم نہیں تھیں۔آئینہ کمالات اسلام - ر-خ- جلد 5 صفحہ 229 حاشیہ )