حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 767 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 767

767 تفسیر قرآن - فرمودات قرآن حدیث اور لغت عرب کے مطابق ہونی ضروری ہے موجودہ حالت میں میرا دل گوارا نہیں کر سکتا کہ میں قرآن شریف کے ایسے معنے کروں جو خود قرآن شریف اور لغت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کے خلاف ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک شان کا باعث ہوں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 160 ) اول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر ان بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگر چه انجیل کے معنے کرنے کے وقت ہر یک بے قیدی کے مجاز ہوں۔مگر ہم مجاز نہیں ہیں اور انہیں یا د رکھنا چاہیئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر کریں تو اس طور سے کرنے چاہیئے کہ دوسری قرآنی آئتیں ان معنوں کی موید اور مفسر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو۔کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے معنی جانتا ہے۔غرض اتم اور اکمل طریق معنے کرنے کا تو یہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیح مرفوع متصل نہ مل سکے تو ادنے درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں۔لیکن ہرگز یہ درست نہیں ہوگا کہ بغیر ان دونوں قسم کے التزام کے اپنے ہی خیال اور رائے سے معنی کریں کاش اگر پادری عمادالدین وغیرہ اس طریق کا التزام کرتے تو نہ آپ ہلاک ہوتے اور نہ دوسروں کی ہلاکت کا موجب ٹھہرتے۔(آریہ دھرم -ر خ- جلد 10 صفحہ 81-80 حاشیہ ) قرآن اپنی تفسیر آپ کرتا ہے قرآن کی تفسیر کے متعلق فرمایا کہ خدا کے کلام کے صحیح معنی تب سمجھ میں آتے ہیں کہ اس کے تمام رشتہ کی سمجھ ہو جیسے قرآن شریف کی نسبت ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تفسیر کرتا ہے۔اس کے سوا جو اور کلام ہو گا وہ تو اپنا کلام ہوگا۔دیکھا گیا ہے کہ بعض وقت ایک آیت کے معنے کرنے کے وقت دوسو آیتیں شامل ہوتی ہیں۔ایجادی معنے کرنے والوں کا منہ اس سے بند ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 170 )