حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 766 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 766

766 تفسیر قرآن اور سنت رسول فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوُا ءِ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ۔(هود: 113) رسول اللہ صل اللہ علیہ وسل کو دیکھو صرف اس ایک حکم نے کہ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ نے ہی بوڑھا کر دیا۔کس قدر احساس موت ہے۔آپ کی یہ حالت کیوں ہوئی صرف اس لئے کہ تاہم اس سے سبق لیں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک اور مقدس زندگی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہادی کامل اور پھر قیامت تک کے لئے اور اس پر کل دنیا کے لئے مقررفرمایا مگر آپ کی زندگی کے کل واقعات ایک عملی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔جس طرح پر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے اور قانون قدرت اس کی فعلی کتاب ہے اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی ایک فعلی کتاب ہے جو و یا قرآن کریم کی شرح اور تفسیر ہے۔ر یو یو آف ریجنز جلد سوم صفحہ 11 بابت ماہ جنوری 1904) ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ انبیا علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لیے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تغییر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے۔اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت سے قریباً ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کیے گئے ہیں۔ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی - ر- خ - جلد 19 صفحہ 209-210)