حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 765
765 تفسیر قرآن واقعات اور موقعہ کے مطابق ہونی چاہیئے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ اس امر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیر پا کریں گی ورنہ اس کے سوا اور کیا معنے ہیں۔کیا یہ تو میں دیواروں اور ٹیلوں کو کودتی اور پھاندتی پھریں گی۔نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیر پا کرلیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔واقعات جس امر کی تفسیر کریں وہی تغییر ٹھیک ہوا کرتی ہے۔اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دیئے ہیں۔ان کے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضرورت ہوتی تو اب جیسے کہ بظاہر اسلامی دنیا کے امیدوں کے آخری دن ہیں چاہیئے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی اور اسلامی سلطنتیں تمام دنیا پر غلبہ پاتیں اور کوئی ان کے مقابل پر ٹھہر نہ سکتا مگر اب تو معاملہ اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زمانہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گا بلکہ ان کے واسطے آسمانی طاقت کام کرے گی جس کا ذریعہ دعا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 191) إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا۔وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَ قَالَ الْإِنْسَانُ مَالَهَا۔(الزلزال:2-4) آیت موصوفہ میں صاف لکھا ہے کہ انسان کہیں گے کہ زمین کو کیا ہو گیا۔پھر اگر حقیقتا یہی بات سچ ہے کہ زمین نہایت شدید زلزلوں کے ساتھ زیر و زبر ہو جائے گی تو انسان کہاں ہو گا جو زمین سے سوال کرے گا تو وہ پہلے ہی زلزلہ کے ساتھ زاویہ عدم میں مخفی ہو جائے گا۔علوم حسیہ کا تو کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا۔پس ایسے معنے کرنا جو بیداہت باطل اور قرائن موجودہ کے مخالف ہوں گویا اسلام سے ہنسی کرانا اور مخالفین کو اعتراض کے لئے موقع دینا ہے پس واقعی اور حقیقی معنے یہی ہیں جو ابھی ہم نے بیان کئے۔شہادت القرآن-رخ- جلد 6 صفحہ 316-315) قرآن کل دنیا کی صداقتوں کا مجموعہ ہے اور سب دین کی کتابوں کا فخر ہے جیسے فرمایا ہے فِيهَا كُتُب قَيِّمَةٌ اور يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً (البينة: 3) پس قرآن کریم کے معنی کرتے وقت خارجی قصوں کو نہ لیں بلکہ واقعات کو مد نظر رکھنا چاہیئے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 388)